30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اڑالے گئے کہ اب وہ ذرے بھی نہیں دکھائی دیتے کچھ ہاتھ آنا تو بڑی بات ہے،
|
نسأل اﷲ العفو والعافیۃ" رَبَّنَا لَا تُزِ غْ قُلُوۡبَنَا بَعْدَ اِذْ ہَدَیۡتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحْمَۃًۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الْوَہَّابُ﴿۸﴾ "[1]۔ وصلی اﷲ تعالٰی علی خیر خلقہ وسید رسلہ واٰلہ صحبہ اجمعین اٰمین،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اور عافیت کا ہی سوال کرتے ہیں،اے ہمارے پروردگار! نہ ٹیڑھا فرماہمارے دلوں کو بعد اس کے کہ تونے ہمیں ہدایت سے نوازا اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما بلاشبہ تو ہی عطافرمانے والاہے،اﷲ تعالٰی کی رحمتوں کا نزول ہو تمام مخلوق سے افضل تمام رسولوں کے سربراہ اور ان کے آل واصحاب سبھی پر،واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت) |
مسئلہ ۳۲۶ تا ۳۳۱: ۷ ربیع الاخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)اکثر دیہات میں جو قربانیاں ہوتی ہیں تو ان قربانیوں کے سربہشتی کودیتے ہیں،اور کسی گاؤں میں یہ رسم ہے کہ حجام کو دیتے ہیں،ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ علمائے دین نے کہیں حکم اس بات کا نہیں دیا اور نہ علماء کی زبان سے سنا گیا کہ قربانی کا سربہشتی کو یا حجام کو دیا جائے،تو وہ لوگ قربانی کنندہ کہنے لگے کہ اگر یہ حق بہشتی کانہ ہو تا تو ہمارے باپ دادا کیوں دیتے،کیاان کے زمانے میں عالم نہ تھے،ہم باپ دادا کی رسم نہ چھوڑیں گے چاہے ہمارے قربانی مقبول ہو یا نہ ہو،اس کو خدا ہی جانتاہے۔
(۲)یہ کہ بہشتی کہتاہے کہ یہ حق ہمارانبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانے سے چلا آتاہے اور عالم خودا ب تك دیتے چلے آرہے ہیں،اگر نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نہ دیتے تو علماء کیوں قربانی کے سرپائے دیتے،بلکہ کہتاہے کہ جو ہمارے حق کو میٹے وہ عالم نہیں ہے،معاذاﷲ اب علمائے دین فرماویں کہ یہ حق بہشتی وغیرہ کا ہے یانہیں۔یاعلمائے دین اور نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر بہتان باندھا گیاہے؟
(۳)یہ کہ جولوگ قربانی کرتے ہیں یاکرچکے ہیں اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ چاہے ہماری قربانی مقبول ہو یانہ ہو ہم اپنے باپ دادا کار سم نہیں چھوڑیں گے چاہے عالم کچھ بھی کہیں،تو ان کا یہ کہنا کیساہے ؟ اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع