30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایسی ویسی کتاب میں لکھا ہوا دیکھو تب بھی ایسا اعتقاد مت رکھنا"تو سوال یہ ہے کہ یہ لکھنا جناب کا کس صورت پر محمول کیا جاوے،آیا سب کتابیں مذکور الصدر جن سے ارواح کا آنا ثابت ہے،ایسی ویسی کتب میں اور گرنہیں تو ان کتابوں کو ایسی ویسی سمجھنے والے کے حق میں شرع شریف میں کیاحکم ہے؟ عنداﷲ غور فرماکر جواب حق سے مع مہر اور دستخط کے دریغ نہ کرئیے گا۔۴ جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ
(دوسرے خط کا جواب از طرف تھانوی):
وعلیکم السلام،چونکہ انداز عبارت سے مقصود اعتراض معلوم ہوتاہے اور جس پر اعتراض کرنا مقصود ہو اس سے استفسار کرنا نامناسب ہے اس لئے جواب نہیں دیا گیا کیونکہ مقصود استفتاء سے دوسرا ہوتاہے یعنی طلب حکم العمل،اور ان دونوں غرضوں سے منافات معلوم۔
(تیسراخط بنام تھانوی)
جناب،السلام علیکم،افسوس مسئلہ حل طلب جناب کو دوبارہ لکھا لیکن جواب جواب باوجود یکہ فقیر کو نہ اعتراض مرغوب،نہ کوئی مناظرہ محبوب،بلکہ اظہار حق مطلوب،کتب معتبرہ اہل سنت وجماعت جن کے اسمائے طیبہ پچھلے خطوں میں بالتصریح مذکور،جب یہ ایسی ویسی نہیں تو ان کوایسی ویسی سمجھنے والے کی نسبت جو حکم شرع ہو اس کے لکھنے میں آپ کوکیاتامل ہے،ہاں البتہ آپ کے اس لفظ ایسی ویسی کے لکھنے میں شامل ضرور ہوتی ہیں،شاید جس کی وجہ سے اظہار حق میں کچھ دریغ ہے،اگر بہ تقاضائے بشریت جناب سے کوئی سہو وخطا اس کلمہ ایسی ویسی کے لکھنے میں مضمر ہے تو آگاہیت پر ان کلمات کی واپسی میں کیاعذرہے اور اگر خاص کوئی تاویل ہے تواس سے عنداﷲ مع دستخط ومہر کے بواپسی ڈاك صاف طور سے عوام کو مطلع فرمادیجئے گا بلحاظ اس کے تاکہ ظن قائم کریں اگر آپ نے صاف صاف جواب جواب بھی نہ دیا تو پھر مجبورا یہی متصورہوگا کہ آپ کو کتب معلومہ سے انحراف ہے،اس پر پھر جو حکم شرعی ہوگا علمائے اہل سنت وجماعت سے استفتالے کر بذریعہ اشتہار مشتہر کردیا جائے گا،۹ فروری ۱۹۱۹ء
(تیسرے خط کا جواب از طرف تھانوی):
السلام علیکم،مجھ کو جو کچھ عرض کرنا تھا کرچکا،فقط۔
جناب من! تینوں خط مع جواب ان کے پیش خدمت بعد ملاحظہ مخفی نہ رہے گا مولوی صاحب نے اصل جواب کے دینے میں کس قدر ایچ پیچ لگائے ہیں،اور جو مقصود سوال تھا ان کے جوابات میں وہ قطعی مفقود،اب سوال یہ ہے کہ اس عبارت زشتی زیور سے کہ جس میں جو لکھا ہے"ارواح موتٰی کا اوقات متبرکہ میں اپنے گھروں کو آنا اگر کسی ایسی ویسی کتاب میں لکھا ہوا دیکھو تب بھی ایسا اعتقاد مت رکھنا"
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع