30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں کہ وہ عزیزان اموات کو یاد کرتے ہیں قدر ضرورت"[1]
جناب آپ کی عبارت بالا دیکھنے اور ان سب روایات کے غور کرنے سے عوام الناس نہایت مبتلائے اوہام اور مشکوك ہیں،اب سوال یہ ہے کہ آپ کے اقوال قابل تسلیم یا یہ جملہ روایات منقولہ اور کتب حوالہ جات روایات منقولہ کوکیا تصور کیا جائے،آیا یہ سب کتابیں ایسی ویسی ہیں جن کی عالم سند نہیں رکھتے،تحقیق کیا ہے وہ صحیح ہے یانہیں،یایہ کہ وہی درست ہے جو جناب کی کتاب زشتی زیور وغیرہ میں لکھا ہے عنداﷲ بواپسی ڈاك جواب باصواب بنظر انصاف مستفید فرمائے تاکہ خاطر جمع ہوں اﷲ آپ کو اس کی جزائے خیر دے گا،جواب کے واسطے ٹکٹ مرسل ہے،۵ربیع الثانی ۱۳۳۷ھ
(پہلے خط کا جواب از طرف تھانوی):
السلام علیکم اگر تقلید پر اکتفا ہے تو جو شخص آپ کے نزدیك قابل اعتمادہو اس کا اتباع کیجئے اور اگرتحقیق کا شوق ہے تو یہ خط لے کر تشریف لے آئیے بشرطیکہ کچھ علوم دینیہ سے مناسبت بھی ہو،
(دوسراخط بنام تھانوی):
جناب تھانوی صاحب ! اسلام علیکم،کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آنا اپنے گھروں کوارواح موتٰی کا اوقات متبرکہ مثل شب جمعہ وغیرہ میں اپنے احادیث صحیحہ سے ثابت ہے،جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں ہے:
|
دربعضے روایات آوردہ است کہ ارواح میت می آید خانہ خود راشب جمعہ پس نظرمی کند کہ تصدق مے کنند ازوے یانہ [2]۔ |
بعض روایات میں منقول ہیں کہ جمعہ کی رات میت کی روح اپنے گھرآتی ہے،اور دیکھتی ہے کہ اس کی طرف سے صدقہ کیا گیا ہے یانہ۔(ت) |
اور نیز اکثر کتب معتبرہ اہل سنت وجماعت فقہ وحدیث وتفاسیر مثلا دقائق الاخبار،دررالحسان،دستور القضاۃ،فتاوٰی نسفیہ،اشباہ والنظائر،روضۃ الریاحین،خزانۃ الروایات،عوارف المعارف،تذکرۃا لموتٰی،فتاوٰی عزیزی وتفسیر عزیزی میں ارواح کاآنا مسطور، لیکن جناب کی زشتی زیور کے حصہ چھ میں"ارواح موتٰی کا اوقات متبرکہ میں اپنے گھروں میں نہ آنا"اس شدومد کے ساتھ مذکور کہ"اگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع