30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دقائق الاخبار مصنفہ حضرت امام غزالی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ میں ہے:"حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ جس دن ہوتا ہے دن عید کا،یاد ن جمعہ کا،یا روز عاشورہ کا،یا شب نصف شعبان،آتی ہیں روحیں مُردوں کی،اور کھڑی ہوتی ہیں اوپر اپنے گھروں کے،پس کہتی ہیں آیا ہے کوئی کہ یاد کرتاہے مجھ کو،آیا ہے کوئی کہ رحم کرے اوپر ہمارے،آیا ہے کوئی کہ یاد کرے غربت ہماری کو،اے وہ لوگو! کہ رہتے ہو تم بیچ گھروں ہمارے کے،اے لوگو! اچھے ہوئے تم ساتھ اس کے اور بدبخت ہم ساتھ اس کے ہوئے،اور اے لوگو! کھڑے ہو تم بیچ کشادہ محلوں ہمارے کے،اور ہم درمیان قبروں تنگ کے،اورآیا ہے اے لوگو! ذلیل کیا تم نے یتیموں ہمارے کو،اے لوگو! نکاح کیا تم نے ساتھ عورتوں ہماری کے،آیا ہے کہ یاد کرے کوئی بیچ غربت اور فقر ہمارے کے،اعمال نامے تمھارے کشادہ ہیں اور اعمال نامے ہمارے لپٹے گئے"[1]
اور قریب قریب روایت اسی مضمون کی کتاب دررالحسان میں امام سیوطی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نقل فرماتے ہیں:
|
وعن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما اذا کان یوم العید ویوم العشر ویوم الجمعۃ الاولی من شھر رجب ولیلۃ النصف من شعبان ولیلۃ الجمعۃ یخرج الاموات من قبورھم ویقفون علی ابواب بیوتہم ویقولون ترحموا علینا فی اللیلۃ بصدقۃ ولوبلقمۃ من خبز فانا محتاجون الیھا فان لم یجدواشیئا یرجعون بالحسرۃ [2]۔ |
حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے جب عید کادن،دسواں دن،ماہ رجب کاپہلا جمعہ،شب براءت(شعبان کی نصف)اور جمعہ کی رات آتی ہے تو اموات اپنی قبور سے نکل کر اپنے گھروں کے دروازوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں ہماری طرف سے اس رات صدقہ کرو اگرچہ روٹی کا ایك لقمہ ہی دو کیونکہ ہم اس کے ضرورت مندہیں اگر وہ کچھ صدقہ نہ کریں تو بڑے افسوس سے لوٹتے ہیں(ت) |
دستور القضاۃ مصنفہ صدرالدین رشید تبریزی میں فتاوٰی نسفیہ سے منقول ہے:
|
ان ارواح المؤمنین یاتون فی کل لیلۃ الجمعۃ ویوم الجمعۃ فیقومون بفناء بیوتہم |
اہل ایمان کی ارواح ہر جمعہ کی رات اور دن کو اپنے گھروں کے صحن میں آکر غمناك آواز دیتی ہیں:اے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع