30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(عزیزی منظور مدعمرہ کا پہلا خط بنام مولوی اشرف علی تھانوی)جناب مولوی صاحب بعد السلام علیکم عرض ہے کہ جناب کی بعض تصنیفات مثل بہشتی زیور وغیرہ میں جملہ رسوم مروجہ اہل اسلام مثلا قیام میلاد شریف و اعراس بزرگان دین وتعین گیارھویں شریف وطریق نیاز ایصال ثواب میت اور دعاکے لئے بروقت فاتحہ ہاتھ اٹھانا اورمیت کا تیجا،دسواں،بیسواں،چہلم،سہ ماہی،ششماہی،برسی،سات جمعراتیں کرنا،اوربزرگوں سے استمداد چاہنا اوران کے مزاروں پر چادریں چڑھانا اورعورتوں کو قبور اولیائے کرام پر بفرض زیارت کے جانا وغیرہ وغیرہ ناجائز وبدعت لکھا ہے،اور ان ایام میں ہماری طرف ایك رسالہ موسومہ"مفید آخرت"حصہ اول ودوم چھپ کر شائع ہوئے ہیں بغرض ملاحظہ جناب ہمراہ تحریرہذا ارسال ہیں ان دونوں حصوں میں امور متذکرہ بالاکو بدلائل احادیث واقوال مشائخ کرام علمائے عظام وروایات فقہ جائز ومستحسن ثابت کیا گیا ہے اور نیز جناب نے"بہشتی زیور"کے حصہ چھ کے اس بیان میں جس میں ان رسموں کا بیان ہے جو کسی کے مرنے میں برتی جاتی ہیں،لکھا ہے:"بعض یہ سمجھتے ہیں کہ ان تاریخوں اور جمعرات کے دن اور شب برأت وغیرہ کے دنوں میں مردوں کی روحیں گھروں میں آتی ہیں اس بات کی شرع شریف میں کچھ اصل نہیں اور ان کے آنے کی ضرورت ہی کیا ہے کیونکہ جو کچھ ثواب مُردوں کو پہنچایا جاتاہے اس کو خود اس کے ٹھکانے پر پہنچ جاتاہے پھر اس کو کون ضرور ہے کہ مارا مارا پھرے،پھریہ بھی ہے کہ اگر مُردہ نیك اور بہشتی ہے تو ایسی بہار کی جگہ چھوڑ کر کیوں آنے لگا اور اگر بد اور دوزخی تو اس کوفرشتے کیوں چھوڑیں گے کہ عتاب سے چھوٹ کر سیر کرتاپھرے،غرض یہ بات بالکل بے جوڑ معلوم ہوتی ہے،اگر کسی ایسی ویسی کتاب میں لکھا ہوا دیکھو تب بھی ایسا عقیدہ مت رکھنا جس کتاب کو عالم سند نہ رکھیں وہ بھروسہ کی نہیں ہے۔"
برخلاف اس کے جناب مولانا شاہ سلامت اﷲ صاحب رام پوری نے اپنی کتاب"عمدۃ الفاتحہ"میں ارواح موتٰی کا اوقات متبرکہ میں اپنے گھروں کو آنا احادیث وکتب فقہ اقوال مشائخ کرام وعلمائے عظام سے ثابت کیاہے،مشت نمونہ وہ روایات بھی یہاں لکھی جاتی ہیں،سنئے،اشعۃ اللمعات میں مولانا حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں:
|
دربعضے روایات آمدہ است کہ ارواح میت می آید خانہ خود راشب جمعہ پس نظرمی کند کہ تصدق می کنند ازوے یانہ [1]۔ |
بعض روایات میں منقول ہے کہ جمعہ کی رات میت کی روح اپنے گھر آتی ہے اور دیکھتی ہیں کہ اس کی طرف سے صدقہ کیا گیا ہے یانہیں۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع