30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حسنا فقد کفر حتی قالوا فی رجل قال ترك الکلام عند اکل الطعام حسن من المجموسی او ترك المضاجعۃ عندھم حال الحیض حسن فہو کافر [1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کے کسی معاملہ کو اچھا کہا تو وہ کافر ہوجائے گا حتی کہ ا نھوں نے اس شخص کو کافر قرار دیا جو یہ کہے کہ کھانے کے وقت مجوسی کے ہاں گفتگوں نہ کرنا بہت اچھا عمل ہے یا ان کے ہاں حالت حیض ہمسبتری نہ کرنا اچھا عمل ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت) |
مسئلہ ۳۰۸: از موضع امریاضلع بریلی ۲۳ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین حنفی رحمہم اﷲ تعالٰی اس مسئلہ میں کہ ایك بارات موضع پچومی سے موضع امریا میں آئی، بعدنکاح لڑکی کے باپ اور لڑکے کے چچا مسمی حسین بخش سے کسی بات پر نزاع لفظی واقع ہوئی جس کی وجہ سے تمام برادری کے خلاف حسین بخش اوران کے برادروں نے کھانا نہیں کھایا، دوسرے روز رخصت کے وقت رحیم بخش لڑکی کے باپ نے سامان جہیز وغیرہ دے کرکہا کہ یہ موجود ہے اس کو لے جاؤ اور لڑکی اس وقت رخصت کروں گا جس وقت حسین بخش وپوے کھانا کھائیں گے، جب سب برادری نے حسین بخش وپوے کومجبور کیا تو ہر دوشخص کھانا کھانے پر رضامند ہوگئے، پھر برادری والوں نے ان دونوں شخصوں سے کہا جب تم کھانے کھانے پر رضامند ہو تو تم کولاز م ہے کہ باہم مل کر ایك دوسرے کا قصورمعاف کردوا س رائے کو سن کر رحیم بخش لڑکی کے باپ نے سب برادری کی طرف مخاطب ہوکر کہاکہ میں اپنے قصور پر نادم ہوں اور خدا ورسول کے واسطے ان سے معافی چاہتاہوں یہ بات سن کر حیدر بخش نہایت غیظ وغضب میں یہ کہتاہوا چلا گیا کہ ہم خدا ورسول کو نہیں جانتے ہیں اور نہ ہم ملیں، ایسے الفاظ کہنے والے کی نسبت شرعا کیا حکم ہے؟
الجواب:
اگرواقع میں اس نے یہ لفظ کہے ہیں کہ وہ خدا ورسول کونہیں جانتا تو کہنے والا اسلام سے گیا اور ا س کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئی، مسلمانوں پر فرض ہے کہ جب تك وہ توبہ کرکے از سرنو مسلمان نہ ہو اس کی موت وحیات کسی بات میں شریك نہ ہوں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۹ تا ۳۱۰: از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین ان مسائل میں کہ:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع