30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من سود مع قوم فہو منہم[1]۔ رواہ الخطیب عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
جس نے کسی قوم کی کثرت بڑھائی وہ انہی میں سے ہوگا، اسے خطیب نے حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت) |
تیسری حدیث میں ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من کثر سواد قوم فہو منہم [2]۔ رواہ ابویعلی فی مسندہ وعلی بن معبد فی کتاب الطاعۃ والمعصیۃ عن عبداﷲ بن مسعود وابن المبارك فی الزھد عن ابی ذر من قولہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ |
جس نے کسی قوم کا جتھا بڑھایا پس وہ انہی میں سے ہوگا اسے ابویعلٰی نے مسند میں اورعلی بن معبد نے کتاب الطاعۃ و المعصیۃ میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مرفوعا اور ابن مبارك نے زہد میں حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ارشاد کے طورپر نقل کیا۔ (ت) |
مجمع الانہر، شرح ملتقی الابحر وفتاوٰی ظہیریہ واشباہ والنظائر وتنویرالابصار ودرمختار وغیرہا میں ہے:
|
یکفر بتبجیل الکافر حتی لو سلم علی الذمی تبجیلا کفروبقولہ للمجوسی یااستاذ تبجیلا [3]۔ |
کافر کی تعظیم کفر ہے حتی کہ اگر کسی نے ذمی کو تعظیما سلام کہا تو یہ کفر ہے، کسی نے مجوسی کو بطور تعظیما"یااستاد"کہا تو یہ بھی کفرہے۔ (ت) |
(۲) قشقہ کہ ماتھے پر لگایا جاتاہے صرف شعار کفارنہیں بلکہ خاص شعار کفر بلکہ اس سے بھی اخبث خاص طریقہ عبادت مہادیو وغیرہ اصنام سے ہے اور اس کے لگانے پر راضی ہونا کفر پر رضا ہے اور اپنے لئے ثبوت کفر پر رضا بالاجماع کفرہے، منح الروض الازہر میں ہے:
|
من رضی بکفر نفسہ فقد کفر ای اجماعاوبکفر غیرہ اختلف المشائخ [4]۔ |
جو اپنی ذات کے کفرپر خوش ہو اور وہ بالاتفاق کافرہے او رجو کسی کے کفر پر خوش ہوا اس کے بارے میں مشائخ کا اختلاف ہے۔ (ت) |
[1] تاریخ بغداد حدیث نمبر ۵۱۶۷ عبداﷲ بن عتاب الشاہد العبدی دارالکتاب العربی بیروت ۱۰/ ۴۱
[2] نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ بحوالہ مسند ابی یعلی کتاب الطاعۃ والمعصیۃ الخ المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۴/ ۳۴۶
[3] الاشباہ والنظائر کتاب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۸۸
[4] منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۸۰۔ ۱۷۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع