30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایك جلوس مہاتما گاندھی جی کا نکالا گیا جس میں ہندو مسلمانان سب شریك تھے،علاوہ دیگر واقعات کے ایك واقعہ مسلمانان میرٹھ کا یہ ہوا کہ ہندوؤں نے مسلمانوں کے عین جلوس میں قشقہ چندن وغیرہ مسلمانوں کے ماتھے پر لگایا ہے، چندن لگوانے اور لگوانے والے مسلمانوں سے معلوم ہواہے کہ اس چندن لگانے میں ہندوؤں کی طرف سے کوئی جبر نہ تھا چنانچہ جن مسلمانوں نے انکار کیا انھوں نے انکار کرنے والے مسلمانوں کے ماتھے پر نہیں لگایا، اب اس جلوس میں شریك ہونے والے مسلمانوں کی تین قسمیں تھیں جو بترتیب ذیل درج سوال ہیں، امیدکہ ہر ایك کاحکم شرع شریف علمائے کرام" لَا یَخَافُوۡنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ ؕ"[1] وہ کسی ملامت کرنے والے کاخوف نہیں رکھتے۔ ت) کی شان پیش نظر فرماتے ہوئے تحریر فرماکر عنداﷲ ماجور ہوں:
(۱) جو مسلمان اس جلسہ میں شریك ہوئے اور چندن لگوانے سے انکار کیا ان کی شرکت اس جلوس میں ازروئے شریعت کیسی تھی۔
(۲) جن مسلمانوں نے چندن لگوانے سے ہندوؤں کو روکا نہیں بلکہ لگوایا پھر بعد کو اسی وقت یا تھوڑی دیر بعد اس جلسہ میں اپنے ہاتھوں اور رومالوں سے صاف کرلیا ان کاکیاحکم ہے؟
(۳) جن مسلمانوں نے چندن لگوایا اور چندن لگائے ہوئے جلسہ میں شریك رہے بلکہ چندن لگائے ہوئے اپنے گھروں پر واپس آئے یا شام تك لگا ئے رہے، ان کی بابت حکم شرع شریف کیاہے؟
الجواب:
حرام حرام سخت حرام تھی بلکہ فقہائے کرام کے طورپر حکم سخت تر، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من جامع المشرك وسکن معہ فانہ مثلہ[2] ، رواہ ابو داؤد بسند حسن و علقہ الترمذی عن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
جس نے کسی مشرك کے ساتھ اتفاق کیا اور اسی کے ساتھ ٹھہرا وہ اسی کے مثل ہوگا، اسے ابوداؤد نے حضرت جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے سند حسن سے اور ترمذی نے تعلیقًا بیان کیا۔ (ت) |
دوسری حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع