30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
صالحون فمالم یعلم القادح لایبنی علی الصناعۃ ومثلہ النخاسون و الدلالون [1]۔ |
صالح اور بزرگ لوگ بھی اپناتے رہے تو جب تك واضح طور پر مانع طعن وجرح نہ ہو محض کسی کاروبار کو عدم صحت شہادت کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا اور اسکی مثل حکم ہے جانور ہانکنے والوں اور دلالوں کا(ت) |
بلکہ درمختارمیں ہے:
|
فی شرح الوھبانیۃ لاتقبل شہادۃ بائع الاکفان والحنوط وکذاالدلال واعتمدہ قدری افندی فی واقعاتہ وذکرہ المصنف فی اجارۃ معینۃ معزیا للبزازیۃ وملخصہ انہا لاتقبل شہادہ الدلالین والصکاکین والوکلاء المفتعلۃ علی ابوابہم ونحوہ فی فتاوٰی مؤیدزادہ [2]۔ |
شرح الوہبانیہ میں ہے کفن وحنوط بیچنے والے کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی،اسی طرح دلال کی گواہی کا بھی حکم ہے،قدری آفندی نے اپنی واقعات میں اس پر اعتماد کیا، مصنف نے بزازیہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے اجارہ معینہ میں اسے ذکر کیاہے،اس کا خلاصہ یہ ہے کہ دلالوں، اشٹام فروشوں اور ان وکلاء جولوگوں کے دروازوں پر چکر لگاتے ہیں وغیرہ کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی،فتاوٰی مؤید زادہ میں ایسے لوگوں کایہی حکم بیان ہواہے۔(ت) |
دلال کاکام یہ ہے کہ مشتری سے بڑھوائے یا بائع سے گھٹوائے جوڑ توڑ لگا کر جھوٹ سچ ملاکر نرم گرم کراکر سودا کرادے اور اپنے ٹکے سیدھے کرے،حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو اس ذلیل لفظ سے تعبیر کرنا صریح توہین ہے،اور حضور اقدس کی توہین کفر،اس سے بہتر لفظ خیال کیونکر آتا جب دل میں عظمت ہی نہیں۔
(۲)مجلس میلاد مبارك ذکر شریف سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے اور حضور کا ذکر اﷲ عزوجل کا ذکر،اور ذکر الہٰی سے بلاوجہ شرعی منع کرنا شیطان کا کام ہے اور ذکر شریف سے معاذاﷲ حضور کا ہتك حرمت ہونا قائل کا محض کذب وافتراء ہے، ہاں بعض روایات موضوعہ واشعار نامشروعہ سے ایساہو تو اس سے مجلس شریف بری نہ ہوجائے گی،جیسے بہت لوگ نماز میں تعدیل ارکان نہیں کرتے اور یہ حرام ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع