30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درخت پر تجلی فرمائی اور وہ بات درخت سے سننے میں آئی کیا رب العزت ایك درخت پرتجلی فرماسکتاہے اوراپنے محبوب بایزید پر نہیں؟ نہیں نہیں وہ ضرور تجلی ربانی تھی کلام بایزید کی زبان سے سناجاتاتھا،جیسے درخت سے سناگیا اور متکلم اﷲ عزوجل تھا اسی نے وہاں فرمایا:" یّٰمُوۡسٰۤی اِنِّیۡۤ اَنَا اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۳۰﴾ "[1](اے موسٰی! میں اﷲ ہوں رب سارے جہاں کا۔ت)اسی نے یہاں بھی فرمایا:سبحانی مااعظم شانی [2](میں پاك ہوں اور میری شان بلند ہے۔ت)اور ثابت ہو تویہ بھی کہ لوائی ارفع من لواء محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم [3](میرا جھنڈا محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے جھنڈے سے بلند ہے۔ ت)بیشك لواء الہٰی لواء محمد ی سے ارفع واعلٰی ہے، حضرت مولوی قدس سرہ المعنوی نے مثنوی شریف میں اس مقام کی خوب تفصیل فرمائی ہے اور تسلط جن سے اس کی توضیح کی ہے کہ انسان پر ایك جن مسلط ہوکر اس کی زبان سے کلام کرے اور رب عزوجل اس پر قادر نہیں کہ اپنے بندے پر تجلی فرماکر کلام فرمائے جو اس کی زبان سے سننے میں آئے بلاشبہہ اﷲ قادرہے او رمعترض کا اعتراض باطل،اس کا فیصلہ خود حضرت بایزید بسطامی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے زمانہ میں ہوچکا ظاہر بینوں بے خبروں نے ان سے شکایت کی کہ آپ سبحانی مااعظم شانی کہا کرتے ہیں،فرمایا:حاشا میں نہیں کہتا کہا آپ ضرور کہتے ہیں ہم سب سنتے ہیں فرمایا:جو ایسا کہے واجب القتل ہے میں بخوشی تمھیں اجازت دیتاہوں جب مجھے ایساکہتے سنو بے دریغ خنجر ماردو،وہ سب خنجر لے کر منتظر وقت رہے یہاں تك کہ حضرت پر تجلی وارد ہوئی اوروہی سننے میں آیا سبحانی مااعظم شامی مجھے سب عیبوں سے پاکی ہے میری شان کیا ہی بڑی ہے،وہ لوگ چار طرف سے خنجر لے کر دوڑے اور حضرت پر وار کئے جس نے جس جگہ خنجر ماراتھا خود اس کے اسی جگہ لگااور حضرت پر خط بھی نہ آیا،جب افاقہ ہوا دیکھا لوگ زخمی پڑے ہیں،فرمایا:میں نہ کہتاتھا کہ میں نہیں کہتا وہ فرماتا ہے جسے فرمانا بجا،واﷲ اعلم
مسئلہ ۲۹۵ تا ۲۹۷: از شہر بھڑوچ لال بازار چنارواڑ مرسلہ مولوی عباس میاں ولد مولوی علی میاں صاحب یکم ربیع الاول ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)ایك مولوی احمد سعید نام کا دہلی مدرسہ امینیہ کا جو دیوبند کی شاخ سے ہے ابھی دس روز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع