30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حبب الی من دنیاکم الطیب والنساء وجعلت قرۃ عینی فی الصلٰوۃ فانظر الی حکمۃ قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حبب ولم یقل احببت وقال من دنیاکم فاضافہا الیہم دونہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فدل علی انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان حبہ خاصا بمولاہ عزوجل یدل علیہ قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وجعلت قرۃ عینی فی الصلٰوۃ فکان صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بشری الظاہر ملکی الباطن فکان صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایأتی الی شیئ من احوال البشریۃ الاتانیسا لامتہ تشریعا لھا لاانہ محتاج الی شیئ من ذٰلك کما تقدم وللجہل بھذہ الاوصاف الجلیلۃ والخصال الحمیدۃ قال الجاہل المسکین " مَالِ ہٰذَا الرَّسُوۡلِ یَاۡکُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیۡ فِی الْاَسْوَاقِ ؕ "[1]۔ |
تمھاری دنیا میں سے خوشبو،عورتوں کی محبت اور میری آنکھوں کی ٹھنڈك نمازمیں رکھی گئی ہے،یہ نہ فرمایا کہ میں نے انھیں دوست رکھا،اور فرمایا:تمھاری دنیا میں سے تو اسے اوروں کی طرف اضافت فرمایا نہ کہ اپنے نفس کریم کی طرف،صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم،معلوم ہوا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی محبت اپنے مولٰی عزوجل کے ساتھ خاص ہے جس پر یہ ارشاد کریم دلالت کرتاہے کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈك نماز میں رکھی گئی،توحضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ظاہر صورت بشری اور باطن ملکی ہے،تو حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یہ افعال بشری محض اپنی امت کو انس دلانے اور ان کے لئے شریعت قائم فرمانے کے واسطے کرتے تھے نہ یہ کہ حضور کو ان میں سے کسی شے کی کچھ حاجت ہو،جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا انھیں اوصاف جلیلہ وفضائل حمیدہ سے جہل کے باعث بیچارے جاہل یعنی کافر نے کہا اس رسول کو کیا ہوا کھانا کھاتاہے اور بازاروں میں چلتاہے۔ |
عمرونے سچ کہا کہ یہ قول حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی طرف سے نہ فرمایا بلکہ اس کے فرمانے پر مامور ہوئے جس کی حکمت تعلیم تواضع وتانیس امت و سد غلو نصرانیت ہے،اول دوم ظاہر،اور سوم یہ کی مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ان کی امت نے ان فضائل پر خدا اور خدا کا بیٹاکہا پھر فضائل محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوٰۃ والتحیۃ کی عظمت شان کا اندازہ کون کرسکتاہے،یہاں اس غلو کے سدباب کے لئے تعلیم فرمائی گئی کہ کہو میں تم جیسا بشرہوں خدایا خداکابیٹا نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع