30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لِیْ مَعَ اﷲِ وَقْت لاَیَسَعُ فِیْہِ مَلِك مّْقَرَّب وَلاَ نِبِیّ مَّرْسَل [1]۔ |
میرے واسطے اﷲ کے ساتھ ایك وقت ہے کہ نہیں گنجائش رکھتاہے اس وقت میرے ساتھ کوئی مقرب فرشتہ نہ کوئی نبی بھیجا ہوا۔(ت) |
اور کھانا پینا سونا جاگنا جو خصائص بشریت حضور انور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں اس بنا ء پر اپنے مثل سمجھنا جیساکہ کفار اورمشرکین کہاکرتے تھے۔
|
" مَالِ ہٰذَا الرَّسُوۡلِ یَاۡکُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیۡ فِی الْاَسْوَاقِ ؕ "[2]۔ |
اس رسول کو کیا ہوا کھانا کھاتاہے اور بازاروں میں چلتاہے۔ (ت) |
سراسر بے ادبی وگستاخی ہے،جیسا مولانا روم رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: ؎
گفت اینك مابشرایشان بشر ماوایشان بستہ خوابیم وخور
ایں نداشتند ایشاں از عمی ہست فرقے درمیاں بے انتہا [3]
(انھوں نے کہا ہم بھی بشریہ بھی بشر ہم سوتے ہیں کھاتے ہیں یہ بھی سوتے ہیں کھاتے ہیں یہ اندھاہونے کی بناپر نہیں جانتے کہ ان کے اورحضور کے درمیان بے انتہا فرق ہے۔ت)
یہ تو کفار ومشرکین کاقول تھا اور حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اس" اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ "[4](میں تمھاری مثل بشر ہوں۔ ت)کے کہنے پر مامور تھے جس کی دلالت لفظ قُل کرتاہے ورنہ جب ایکم مثلی [5](تم میں سے کون ہے میری مثل۔ت)ارشاد ہوا ہے اسے زید کس معنٰی پرتاویل کرے گا،لہذا اپنے مثل بشر حضور انور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو سمجھنا سوء ادب ہے اور اس سے احتراز لازم، کیونکہ: ؎
کار پاکاں راقیاس از خود مگیر گرچہ باشد درنو شتن شیر وشِیر [6]
(پاك لوگوں کے افعال کواپنے اوپرقیاس مت کرو اگرچہ لکھنے میں شیر اور شیر(دودھ)ایك جیسے ہوں۔ت)
[1] الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ حدیث ۷۶۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۹۷
[2] القرآن الکریم ۲۵/ ۷
[3] مثنوی مولوی معنوی حکایت مردبقال وروغن ریختن طوطی دفتر اول نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۱
[4] القرآن الکریم ۱۸/ ۱۱۰
[5] صحیح البخاری باب کم التعزیر والادب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۱۲
[6] مثنوی مولوی معنوی حکایت مردبقال وروغن ریختن طوطی دفتر اول نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع