30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲)ایسے الفاظ کہنے سے عورت پر ارتداد کاحکم تونہیں ہوتاہے؟
(۳)اگر ارتداد کاحکم عائد ہوتاہے تو نکاح ہندہ اور زید میں کوئی نقصان ہے یانہیں؟
(۴)اگراس فعل سے نکاح میں کچھ نقصان ہوا اور شوہر نے جماع کیا تو یہ فعل کیاہوا؟
(۵)اگرایسی صورت میں جماع کیا اورحمل قرار پاگیا تو اولاد کیا کہلاوے گی؟ حلالی یاحرامی؟
(۶)اور اگر کوئی حکم الفاظ بالا کی وجہ سے عورت کے خلاف ہے اور اس کا نکاح میں کچھ نقصان نہیں تو اس کا دفعیہ کیاہے؟
الجواب:
ہندہ مرتدہ کافرہ ہوگئی،شوہر پرحرام ہوگئی،جب تك توبہ کرکے اسلام نہ لائے اس سے جماع حرام ہے،اس جماع سے جو اولاد ہوگی ولدالحرام ہوگی اگرچہ ولدالزنانہ کہیں،ہندہ پر فرض ہے کہ اس ملعون ناپاك لفظ سے توبہ کرے اور از سر نو مسلمان ہو،اس کے بعد زیددوگواہوں کے سامنے اس سے دوباہ نکاح کرے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۶: از شہر کہنہ محلہ سہسوانی ٹولہ مسئولہ محمدیامین صاحب ۶شوال ۱۳۳۷ھ
کافر کو کافرکہنا چاہئے یانہیں؟ زید کہتاہے کہ نہیں کہنا چاہئے اس لئے کہ شاید مرتے وقت حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر ایمان لائے،زید اگر باز نہ آئے تو اس سے سلام علیك جائز ہے یاناجائز؟
الجواب:
کافر کو ضرور کافرکہا جائے گا،زید کاخیال غلط ہے جہالت پر مبنی ہے اسے سمجھا یا جائے اگر نہ مانے تو قابل ترك ہے پھر اس سے سلام علیك نہ کی جائے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۷: از موضع موہن پور ڈاکخانہ دیورنیاں ضلع بریلی مرسلہ نورمحمد نورباف ۱۳ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت منکوحہ کو اسی روز اس کے خاوند نے طلاق دی اور اسی روز قاضی صاحب نے اس کا نکاح دوسرے شخص کے ساتھ پڑھادیا قاضی مذکور سے کہا گیاکہ یہ نکاح ناجائز ہے کیونکہ اس میں عدت کی ضرورت ہے،انھوں نے کہا کچھ ضرورت نہیں ہے،ان سے دریافت کیا گیا کہ آپ نے کتنے نکاح ایسے پڑھائے ہوں گے،انھوں نے کہاکہ سیکڑوں نکاح ہم نے ایسے ہی پڑھائے ہیں،حالانکہ وہ عورت بالغ تھی اور اپنے شوہر کے یہاں آتی جاتی اور رہتی تھی اس حالت میں وہ نکاح جائز ہوا یانہیں؟ اور نکاح پڑھانے والے پر شریعت کاحکم کیا ہے؟ اس شخص کانکاح پڑھانا جائزہے یانہیں؟ او ران قاضی صاحب کابھی نکاح رہا یانہیں؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع