30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھی شامل ہے تمام عالم سے اعلی واعلم تو وہی ہیں،تو ضرور حق ہے اور جب بات محتمل ہے تو قائل پرکوئی حکم نہیں ہوسکتا جب تك کہ اس کے قرائن کلام سے متعین نہ ہوتاہو۔
(۳)حجام کاکام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی طرف نسبت کرنا تو اس شخص کا افتراء ہے،آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کوکپڑا بننا سکھایا گیا،داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے لوہانرم کیا گیا وہ اس سے زرہیں بناتے،یہ بیان اگراس نے محل توہین میں کیا تو کافر مرتد ہے اور اگر کسی محل صحیح میں نیت صحیح سے کیا تو حرج نہیں،اوراگرنہ کوئی نیت فاسدہ تھی نہ صحیحہ ویسے ہی بے معنی حکایات کے طور پر بیان کیا تو بے ادب ہے اور قابل تعزیر۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۷۳ و ۲۷۴: ازشہر کہنہ محلہ قاضی ٹولہ مرسلہ حاجی سعد الدین صاحب ۳۰ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
تفضل حسین نے ایك جلسہ عام میں منبرپر بیٹھ کر یہ کہا کہ آج میں ایك ایسی بات بیان کرتاہوں جو آج تك حاضرین جلسہ نے نہ سنی ہو کیونکہ کسی عالم اور کسی فقیر نے آج تك بیان نہیں کیا وہ بات یہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے دولت خانے پر تشریف لائے آپ کی سوئی گرگئی تھی وہاں اندھیراتھا ا س کو وہ تلاش کررہی تھیں تاریکی کی وجہ سے نہ ملتی تھی حضورنے تبسم فرمایا دندان اقدس کی روشنی سے وہ سوئی مل گئی،حضو رنے خیال فرمایا کہ میرے دانت ایسے روشن ہیں کہ آج تك کسی کےایسے نہ ہوئے اس تکبر کی وجہ سے حضور کا دندان اقدس جنگ اُحد میں،شہید ہوگیا۔
(۲)حضور نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رات رات بھر کھڑے ہوکر عبادت کرتے تھے اس وجہ سے پاؤں شریف پر ورم آگیا،کسی صاحب نے یہ عرض کیا کہ حضور پتھر آگ میں گرم کرکے سینکیں،حضور نے جس وقت پتھر آگ میں ڈالا اس نے اﷲ تعالٰی سے فریاد کی حکم ہوا کہ ہم اس کا بدلہ تجھ کو دیں گے ان الفاظ سے توہین ہوئی یانہیں۔اور ہوتی ہے توکس حدتک،یہ دونوں روایتیں صحیح ہیں یاغلط؟ اس کے بیان کرنے والے کے لئے کیاحکم ہے اور سامعین پر اس کاگناہ ہے یانہیں؟ اگر ہے تو وہ کس طرح اس گناہ سے بری ہوں؟
الجواب:
پہلی روایت کہ تبسم فرمانے سے سوئی مل گئی،یہاں تك ٹھیك ہے،اس کے بعد جو اس بیان کرنے والے نے بڑھایا ہے وہ صریح کذب وافتراء ہے،اوراس کے ساتھ جو اس نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت معاذاﷲ تکبر کا لفظ کہا وہ صریح کفر ہے وہ ایمان سے نکل گیا اور اس کی عورت نکاح سے نکل گئی،جیسے مجمع میں اس نے وہ ناپاك ملعون لفظ کہا اسے حکم ہے کہ ویسے ہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع