30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اب اس آئینہ خانے کو دیکھنے والے تین قسم ہوئے:
اول: نا سمجھ بچے،انھوں نے گمان کیا کہ جس طرح بادشاہ
موجود ہے یہ سب عکس بھی موجودہیں کہ یہ بھی توہمیں ایسے ہی نظر آتاہے جیسے وہ،ہاں
یہ ضرورہے کہ یہ اس کے تابع ہیں جب وہ اٹھتاہے یہ سب کھڑے ہوجاتے ہیں،وہ چلتاہے یہ
سب چلنے لگتے ہیں،وہ بیٹھتاہے یہ سب بیٹھ جاتے ہیں تو عین یہ بھی اور وہ بھی،مگر
وہ حاکم ہے یہ محکوم،اور اپنی نادانی سے نہ سمجھا کہ وہاں تو بادشاہی بادشاہ ہے،یہ
سب اسی کے عکس ہیں اگر اس سے حجاب ہوجائے تو یہ سب صفحہ ہستی سے معدوم محض ہوجائیں
گے، ہوکیا جائیں گے اب بھی تو حقیقی وجود سے کوئی حصہ ان میں نہیں حقیقۃً بادشاہ
ہی موجو دہے باقی سب پر تو کی نمود ہے،
دوم: اہل نظر وعقل کامل،وہ اس حقیقت کو پہنچے اورا عتقاد بنائے کہ بیشك وجود
ایك بادشاہ کے لئے ہے موجود ایك ہی ہے یہ سب ظل وعکس ہیں کہ اپنی حد ذات میں اصلا
وجودنہیں رکھتے اس تجلی سے قطع نظر کرکے دیکھو کہ پھر ان میں کچھ رہتاہے حاشا عدم
محض کے سوا کچھ نہیں،ا ور جب یہ اپنی ذات میں معدوم وفانی ہیں اور بادشاہ موجود،یہ
اس نمودمیں اسی کے محتاج ہیں اور وہ سب سے غنی یہ ناقص ہیں وہ تام،یہ ایك ذرہ کے
بھی مالك نہیں،اور وہ سلطنت کا مالك یہ کوئی کمال نہیں رکھتے،حیاۃ،علم، سمع،بصر،قدرت،ارادہ،کلام،سب
سے خالی ہیں اور وہ سب کا جامع،تو یہ اس کا عین کیونکر ہوسکتے ہیں،لاجرم یہ نہیں
کہ یہ سب وہی ہیں بلکہ وہی وہ ہے اور یہ صرف اس تجلی کی نمود،یہی حق وحقیقت ہے اور
یہی وحدۃ الوجود۔
سوم: عقل کے اندھے سمجھ کے اوندھے ان ناسمجھ بچوں سے بھی گزرگئے،انھوں نے دیکھا کہ جو صورت بادشاہ کی ہے وہی ان کی جو حرکت وہ کرتاہے یہ سب بھی،تاج جیسا کہ اس کے سر پر ہے بعینہٖ ان کے سروں پر بھی،انھوں نے عقل ودانش کو پیٹھ دے کر بکنا شروع کیا،کہ یہ سب بادشاہ ہیں اور اپنی سفاہت سے وہ تمام عیوب ونقائص نقصان قوابل کے باعث ان میں تھی خود بادشاہ کو ان کا مورد کردیا،جب یہ وہی ہیں تو ناقص عاجزمحتاج،الٹے،بھونڈے،بدنما،دھندلے کا جو عین ہے قطعا انھیں ذمائم سے متصف ہے تعالٰی اﷲ عما یقول الظالمون علواکبیرا(ظالم جو کچھ کہتے ہیں اﷲ تعالٰی اس سے بہت بلند وبالاہے۔ت) انسان عکس ڈالنے میں آئینے کا محتاج ہے اور وجود حقیقی احتیاج سے پاك وہاں جسے آئینہ کہئے وہ خود بھی ایك ظل پھر آئینے میں انسان کی صرف سطح مقابل کا عکس پڑتاہے جس میں انسان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع