30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
افتوا باراقۃ دم من وصفہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بالفقر فی اثناء مناظرتہ بالیتیم ثم زعم ان زھدہ لم یکن قصد او لوقدر علی الطیبات اکلھا و ذکر البدر الزر کشی من بعض الفقہاء المتاخرین انہ کان یقول لم یکن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقیر من المال ولاحالہ حال الفقر بل کان اغنی الناس باﷲ تعالٰی قد کفی امردنیا فی نفسہ وعیالہ وکان یقول فی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اللہم احینی مسکینا ان المراد استکانۃ القلب لاالسکنۃ ھی ان لایجد مایقع لوقعاس کفایتہ وکان یشدد التکبر علی من یعتقد خلاف ذٰلك اھ واماخبر الفقر فخری وبہ افتخر فموضوع وقد صح انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم استعاذ من فتنۃ الفقر کما استعاذ من فتنۃ الغنی [1]۔ |
نے اس شخص کے قتل کا فتوٰی جاری فرمایا جس نے دوران مناظرہ آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو فقیرو یتیم کہا اور یہ عقیدہ رکھا کہ آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا زہداختیاری نہ تھا اگر آپ اشیاء طیبہ پر قادر ہوتے توانھیں استعمال میں لاتے،امام بدرزرکشی نے بعض متاخرین فقہاء سے نقل کیا کہ فرمایا کرتے آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ذات گرامی مال کے اعتبار سے فقیر نہیں اور نہ آپ کاحال،حال فقرہے بلکہ اﷲ تعالٰی نے آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو تمام لوگوں سے غنی بنایا ہے آپ اپنی ذات اور عیال میں دنیا کے کسی معاملہ میں ہر گز محتاج نہیں اور یہ بھی فرماتے آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا جو ارشاد گرامی ہے"اے اللہ! مجھے حالت مسکینی میں زندہ رکھ"سے دل کی عاجزی مرادہے نہ کہ وہ غریبی ومحتاجی جو فقرکا مترادف ہے یعنی وہ محتاج جو قوت لایموت نہ رکھتا ہو،اور جو اس کے خلاف ذہن وعقیدہ رکھتاہو اس پر سخت ناراض ہوتے۔رہا معاملہ حدیث"فقر میرا فخر ہے اوراس پر میں فخرکرتاہوں"کا،تویہ موضوع اور من گھڑت روایت ہے کیونکہ آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے صحیح طورپر ثابت ہے کہ فقر کے فتنہ سے پناہ مانگا کرتے جیسے کہ مالداری کے فتنہ سے پناہ مانگتے۔(ت) |
ان الفاظ کے ناجائز اورحرام ہونے پر یہ عبارات متظافرہ ہیں اور فتوائے فقہائے اندلس وامام ابوالحسن قابسی وتقریرات امام قاضی عیاض وامام تقی الملۃ والدین سبکی وتوضیحات علی قاری میں ان پر حکم کفر ہے۔
اقول: وباﷲ التوفیق،توفیق جامع وتحقیق لامع یہ ہے کہ ان اوصاف کا اطلاق بروجہ تقریر و اثبات خواہ حکم قصدی میں ہویا وصف عنوانی میں اگر قول قائل کے سیاق یاسباق یا سوق یامساق سے
[1] شرح الہمزیہ للامام ابن حجر مکی دستیاب نہیں یہ عبارت مختصرا الفتوحات الاحمدیہ ص ۴۷ مطبوعہ المکتبۃ التجاریۃ مصر پرملاحظہ ہو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع