30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہرگز جائز نہیں۔(ت)اسی میں ہے:
|
الیتیم من الیتم موت الاب قبل بلوغ الولد اومن الانفراد کدرۃ یتیمۃ کما قیل فی قولہ تعالٰی الم یجدك یتیما ای واحد ا فی قریش عدیم النظیر انتہی ومذہب مالك لایجوز علیہ ھذا الاسم [1]۔ |
لفظ یتیم،یتم سے ہے یعنی بچہ کے بالغ ہونے سے پہلے باپ کا فوت ہونا،یا اس کا معنی منفرد اور یکتا ہونا ہے جیسے کہا جاتاہے دریتیم(یکتا موتی)جیساکہ اﷲ تعالی کے اس ارشاد گرامی"کیا اس نے تجھے یتیم نہیں پایا"کے تحت مفسرین نے کہا ہے یعنی قریش میں آپ کی مثال نہیں ملتی یکتا ہیں انتہی،امام مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ کافتوٰی ومذہب یہ ہے کہ اس نام(یتیم)کا اطلاق آپ پر جائز نہیں۔(ت) |
نسیم الریاض جلد رابع ص ۴۵۰ میں ہے:
|
الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام لایوصفون بالفقرو لایجوز ان یقال لنبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقیر وقولہم عنہ الفقر فخری لااصل لہ کما تقدم [2]۔ |
تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو فقرکے ساتھ متصف نہیں کیا جاسکتا،ہمارے نبی وآقا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو فقیر کہنا جائز نہیں،باقی آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بارے میں جو منقول ہے"الفقر فخری"(فقر میرافخر ہے)اس کی کوئی اصل نہیں جیسا کہ گزرا۔(ت) |
اسی کے صفحہ ۳۷۸ میں ہے:
|
قال الزرکشی کالسبکی لایجوز ان یقال لہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقیر اومسکین وھو اغنی الناس باﷲ تعالٰی لاسیما بعد قولہ تعالٰی " وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی ؕ﴿۸﴾"وقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اللہم احینی مسکینا ارادبہ المسکنۃ |
امام زرکشی نے امام سبکی کی طرح فرمایا حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو فقیر یا مسکین کہنا ہرگز جائز نہیں،آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو اﷲ تعالٰی نے تمام لوگوں سے بڑھ کر غنی بنایا ہے خصوصا اﷲ تعالٰی کے اس فرمان کے بعد تو اس کی گنجائش ہی نہیں"پایا اس نے آپ کومحتاج تو غنی کردیا"باقی آپ صلی اﷲ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع