30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور مسلمانوں کو گمراہی کی طرف بلانے والے،او ر جو ایسے اقوال کو شائع کرتے ہیں وہ مسلمانوں میں اشاعت فاحشہ کے محب اور ان قائلوں کی طرح غضب جبار و عذاب قہار کے مستوجب ہیں بزرگان اسلام کے مناقب کو دنت کتھا یعنی بے اصل افسانہ کہنا ہی گمراہی کےلئے کافی تھا مگر کفار کے مذہبی جذبات اور ان کے دیوتاؤں اور پیشواؤں کو عزت دینا صریح کلمہ کفر ہے،
|
قال اﷲ تعالٰی" وَ لِلہِ الْعِزَّۃُ وَ لِرَسُوۡلِہٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ وَ لٰکِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ لَا یَعْلَمُوۡنَ ٪﴿۸﴾"[1]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا عزت توخاص اﷲ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔ |
ان کے دیوتاؤں اور پیشواؤں اور مذہبی جذبات کا اعزاز درکنار جو ان کے کسی فعل کی تحسین ہی کرے باتفاق ائمہ کافر ہے، غمزالعیون والبصائر میں ہے:
|
اتفق مشائخنا ان من رأی امرالکفار حسنا فقد کفر [2]۔ |
جس نے کسی کافر کے عمل کو اچھا گمان کیا وہ باتفاق مشائخ کافرہے۔(ت) |
ان لوگوں پر فرض ہیے کہ ایسی باتوں سے توبہ کریں،تجدید اسلام کریں،تجدید نکاح کریں،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۸:ازاکبر آباد چھوٹی گلی حکیموں کی معرفت ڈاکٹر محمد نفیس صاحب مرسلہ مولانا مولوی دیدار علی صاحب الوری ۴ شعبان ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اثنائے وعظ میں حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت ان کلمات کا اطلاق کیا نعوذ باﷲ آپ یتیم،غریب،بیچارے تھے اور جب چند اشخاص نے جاکر سمجھایا کہ غالبا آپ نے یہ الفاظ نہیں کہے ہوں گے،مناسب ہے کہ آپ اظہار انکار فرمادیں تو کہنے لگا کہ میں نے تو یہی کہا ہے،اﷲ جل شانہ تو قرآن عظیم میں" وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا"[3] فرمارہا ہے،بعدہ جب ایك نووارد مولوی صاحب نے ان سے دریافت کیا توان الفاظ کے کہنے سے انکار کیا اور کہا کہ میں نے تویہ کہا تھا کہ آپ سوچ بچار کر بات فرمایا کرتے تھے اس کولوگوں نے غریب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع