30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور" وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیۡہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیۡدِ ﴿۱۶﴾"[1](اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیك ہیں۔ت)سے احاطہ اور قرب ذاتی مراد ہے یا صفاتی زیدکہتاہے کہ جمہور علماء کے نزدیك ان آیات کامطلب یہ ہے کہ اﷲ تبارك وتعالٰی کا علم اور قدرت ہر شے کو محیط ہے نہ ذات،عمروکہتاہے کہ اﷲ تبارك وتعالٰی کی ذات ہر شے کو محیط اور شہ رگ سے زیادہ قریب ہے کوئی مکان کوئی گوشہ ایسانہیں جہاں ذات خدا موجود نہ ہو اور خدا ہر جگہ حاضر وناضر ہے اور اگر ان آیات سے احاطہ اور قرب صفاتی مراد لیا جائے گا تو گویا صفات خدا ذات باری سے بڑھ گئیں اور ذات باری محدود اور صفات سے چھوٹی ہوگی،اور جو شخص ان آیات سے احاطہ اور قرب صفاتی مراد لے وہ مشرك ہے اگر دنیا بھر کے عالم ایسا کہیں تو بھی ایك کی نہ مانوں گا اور سب کو مشرك کہوں گا اور اپنی دلیل میں شاہ امداد اﷲ صاحب اور مولانا روم صاحب اور امام غزالی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم کے اقوال پیش کرتاہے،ان دونوں میں کس کا قول صحیح ہے؟ اور اگر زید حق پر ہے توعمروکے واسطے شریعت مطہرہ میں کیاحکم ہے وہ اپنے اس قول سے کسی گناہ کا مرتکب ہے یانہیں؟ بینوا مع الدلائل من الکتاب توجروا من اﷲ الوھاب(کتب سے دلائل کے ساتھ بیان کیجئے اور اﷲ وہاب سے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
|
" رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنْ ہَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ﴿ۙ۹۷﴾ وَ اَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحْضُرُوۡنِ ﴿۹۸﴾ "[2] |
اے میرے رب تیری پناہ شیاطین کے وسوسوں سے اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں۔(ت) |
آیات متشابہات میں اہل سنت حفظہم اﷲ تعالٰی کے دو۲ مسلك ہیں:
اقول:تفویض کہ ہم ان کے معنی کچھ نہیں جانتے اﷲ ورسول جانتے ہیں جل وعلا وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جو معنی مراد الہٰی ہیں ہم اس پر ایمان لائے،
|
" اٰمَنَّا بِہٖۙ کُلٌّ مِّنْ عِنۡدِ رَبِّنَاۚ وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلْبٰبِ﴿۷﴾"[3]۔ |
ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع