30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اللھم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی المال والاھل [1]۔ |
اے اللہ! توہی سفر میں صاحب ہے،مال اور اہل کا تو ہی محافظ ہے۔(ت) |
اورمیاں کا اطلاق نہ کیا جائے کہ وہ تین معنی رکھتاہے ان میں دو رب العزت کے لئے محال ہیں،میاں آقا اور شوہر اور مرد عورت میں،زنا کا دلال لہذا اطلاق ممنوع اور اس پر افتخارجہل۔
(۲)حضور اقد س صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر اطلاق صاحب خود قرآن عظیم میں وارد:
|
" وَالنَّجْمِ اِذَا ہَوٰی ۙ﴿۱﴾ مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی ۚ﴿۲﴾"[2] |
اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اترے،تمھارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے۔(ت) |
مگر نام اقدس کے ساتھ اس طورپر لفظ صاحب کا ملانا آریوں اور پادریوں کا شعارہے وہ اسے معروف تعظیم میں لاتے ہیں جو زید وعمر کے لئے رائج ہے کہ شیخ صاحب،مرزاصاحب،پادری صاحب،پنڈت صاحب،لہذا اس سے احتراز چاہئے،ہاں یوں کہا جائے کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہمارے صاحب ہیں آقاہیں مالك ہیں مولٰی ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۵: مستفسرہ حافظ بنوعلی ضلع بھنڈارہ محلہ کہم تالاب ملك متوسط ناگپور ۴ شوال ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص درود شریف اس طور پر پڑھے صلی اﷲ تعالٰی علٰی خیرخلقہ ونورعرشہ محمد واٰلہ واصحابہ اجمعین،ایك صاحب اس میں یہ اعتراض کرتے ہیں کہ نور عرشہٖ پڑھنا حرام ہے۔فقط۔
الجواب:
جو اسے ناجائز بتاتا ہے شریعت پر افتراء کرتاہے:
|
" وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَّ ہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوۡا عَلَی اللہِ الْکَذِبَ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفْتَرُوۡنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾ؕ"[3] |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اورنہ کہو اسے جو تمھاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اﷲ پر جھوٹ باندھو،بیشك جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع