30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میل جول حرام،سلام وکلام حرام،ان کی موت میں شرکت حرام،بیمار پڑیں ان کی عیادت حرام،مرجائیں تو انھیں غسل دینا حرام،کفن دینا حرام،ان کے جنازہ کی نماز پڑھنا حرام،مسلمانوں کے مقابرمیں دفن کرناحرام،جب تك توبہ کرکے مسلمان نہ ہوں گے واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۹و ۲۴۱:محمد عبدالحمید ساکن رولوشدہ مدی پارہ ضلع پترہ
ڈاکخانہ سیف اﷲ کندی ۱۹ رجب ۱۳۳۴ھ
(۱)بعضے ذاکرین اپنے مرشد کو خدا کہتے ہیں بایں نیت
کہ مرشد اگر رہنمائی نہ کرے تو معرفت الہٰی کیسے حاصل ہوگی اور اکثر مرشد کے قدم
پرسجدہ کرتے ہیں یہ فعل ان کے رواہیں یانہیں؟
(۲)بعضے نادان علماء کوحقارت کے ساتھ گالی دیاکرتے ہیں اور شریعت مطہرہ کی بھی اہانت کرتے ہیں تو اس پر شرعا کیا حکم ہے؟ اور اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو کافر کہہ کر گالی دیوے توکیاحکم ہے؟
(۳)ایك شخص جو کسی قدر علم رکھتاہے مسجد کے بارے میں لوگوں کو کہتاہے کہ تم لوگ مسئلہ کولے کر یہاں کا جھگڑا فساد کرتے ہو مسجد ہی توتمھارے لئے فساد گاہ ہے وہاں جاکر جوکرنا ہے کرو،اور وہ توبہ کے بارے میں کہتاہے کہ فقط توبہ ہی سے گناہ معاف ہوجاتاہے،یہ ہرگز نہیں ہوتا،اوروہ شخص مسئلہ کا جواب بلاتحقیق دیا کرتاہے اور مکروہ کے بارے میں کہتاہے کہ یہ تو مکروہ ہی ہے حرام تو نہیں مکروہ سے کیا ہوگا اورکوئی چیز مکروہ تحریمی ہو تو کہتاہے کہ لاؤ مکروہ تحریمی کھالوں گا،ایسے شخص پر شرعا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا(بیان کرو اجر پائیے۔ت)
الجواب:
(۱)مرشد کو خدا کہنے والا کافرہے اور اگر مرشد اسے پسند کرے تو وہ بھی کافر،مرشد برحق کی قدمبوسی سنت ہے اور سجدہ ممنوع۔
(۲)شریعت کی توہین کرنے والا کافرہے۔
|
قال اﷲ تعالٰی،" قُلْ اَبِاللہِ وَاٰیٰتِہٖ وَرَسُوۡلِہٖ کُنۡتُمْ تَسْتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۶۵﴾ لَاتَعْتَذِرُوۡا قَدْکَفَرْتُمۡ بَعْدَ اِیۡمٰنِکُمْ ؕ"[1]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:تو کہہ دے کیا تم اﷲ سے اور اس کے کلام اور اس کے رسول سے ٹھٹھاکرتے ہو،بہانے مت بناؤ،تحقیق تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہوگئے۔(ت) |
یونہی عالم دین سنی صحیح العقیدہ داعی الی اﷲ کی توہین کفر ہے، مجمع الانہر میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع