30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاستخفاف فقد کفر [1]۔ |
اس نے کفر کیا۔(ت) |
اس شخص پر تجدید اسلام لازم ہے اور اس کے بعد اپنی عورت سے نکاح جدید کرے۔واﷲ تعالٰی ااعلم۔
مسئلہ ۲۲۶ تا ۲۲۹:از لکھنؤ احاطہ فقیر محمد خاں متصل دکان ظہور بخش ہیزم فروش مسئولہ حضرت محمد میاں صاحب ۲۸ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
(۱)ایك مسلم جو نماز خلاف معمول بہت جلدی سے پڑھ لیتا تھا اس کو زجرًا ایك اور مسلم نے کہا کیا تو نے نماز کو کھیل سمجھ رکھا ہے،اس پر ایك دوسرے نے کہا اورکیا بظاہر اس نے بھی زجرا کہا اس کے لئے کیاحکم ہے؟
(۲)بعض لوگ لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم پورا نہیں پڑھتے بلکہ عندالحاجت جب پڑھتے ہیں صرف لاحول یا لاحول ولاقوۃ الاباﷲ پر بے وجہ اقتصار کرتے ہیں اگرچہ سخت قبیح وشنیع ہے مگر اس میں کفر تو کسی طرح کا بھی نہیں یا کیا اس پورے جملہ کا علم صر ف جز ومدخول نفی مقرر کرنا کہنا کیساہے؟
(۳)نصارٰی وغیرہ کی کچہریوں اور ان حکام آج کل کے زمانہ والوں کو عدالت یا عادل کہنا اگر چہ سخت ہے اور فقہاء نے حکم کفر تك فرمایا اس سے احتراز ضرور ہے مگر بات دریافت طلب یہ ہے کہ آیا یہ حکم کفر مسئلہ مفتٰی بہا ہے کہ ا یسا استعمال کرنے والے کافر ہوجائیں اور اگر ہے تو کیا قطعی کفر ان پر عائد ہے اورقطعی بھی ایسا کہ جو دوسرا کافر نہ سمجھے اس کے بھی ایمان میں خلل آئے۔
(۴)کاتب جو اُجرت پر کتابت کرے اور ا س کتابت میں امر مخالف دین ہو اور اُجرت پر چھاپنے شائع کرنے والے اسے شائع کریں یا کوئی شخص بے اُجرت محض مروت سے ایسا کرے تو اس کا کیاحکم ہے؟ یا کوئی شخص صفائی خط کے لئے کوئی قطعہ وغیرہ لکھے اور اس میں ایسے کلمات بھی نقل کرجائے یا ان سب صورتوں میں زبان سے پڑھے تو کیاحکم ہے؟
الجواب:
(۱)"اورکیا"کہنے والے پر الزام نہیں جب کہ اسے بھی اس سارق نماز پر زجر مقصود ہو۔
(۲)عندالحاجۃ صرف لاحول ولا قوۃ یا لاحول پر اقتصار قبیح ہے کفر سے کوئی علاقہ نہیں کہ
[1] مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر الفصل الرابع فی الاستخفاف بالعلم داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع