30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حکم ہے؟ فقط
الجواب:
اگر بلاوجہ شرعی کہا سخت گنہ گار ہوا،
|
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من اٰذی مسلما فقد اٰذانی ومن اٰذانی فقد اذی اﷲ [1]۔ |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھ کو ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ کو ایذا دی۔واﷲ تعالی اعلم۔ |
مسئلہ ۲۲۳: مسئولہ نبن خان ملازم اعلٰیحضرت قبلہ ۲۰ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص امور شرعی کی بابت یہ الفاظ کہے کہ شرع کیا چیز ہے۔آج کل شرع پر کون عمل کرتاہے،یہ شرع بھی ایك بحث نکال رکھی ہے وہ شخص عندالشرع کیساہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
اگر اس نے واقعی طورپریہ الفاظ کہے تو کافر ہوگیا اور اگر لوگوں پر طعن کے طورپر کہا یعنی آج کل لوگوں نے شرع کو ایسا سمجھ رکھا ہے تو سخت گنہ گا ر ہوا کہ عام کہا اور لفظ بھی معنی کفر کو موہم ہیں،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۴: از کراچی بندرگاڑی کھاتہ آرام باغ حجرہ اسلامیہ مولوی احمد صدیق نقشبندی ۲۶ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ
زید نے ایك کتاب تصنیف کی ہے جس کے شروع میں عربی عبارت میں اس طرح لکھا ہے:بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم الھٰنا محمد وھو معبود جل شانہ وعزبرہانہ ورسولنا محمد و ھو محمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ان الفاظ کی کوئی تاویل ہوسکتی ہے یانہیں؟ اگر نہیں تو ایسے لکھنے والے پر شرعا کیا حکم ہے اور اس سے میل جول رکھنا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا اور ایسے اعتقاد والے سے نکاح وغیرہ پڑھوانا شرعا کیسا ہے؟ بینوا توجروا۔جواب مع عبارات تحریر فرمائیں۔
الجواب:
ہمارے ائمہ نے حکم دیا ہے کہ اگر کسی کلام میں ننانوے احتمال کفر کے ہوں اور ایك اسلام کا تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع