30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من کفر باللسان وقلبہ مطمئن بالایمان فھو کافر وبلیس بمومن عنداﷲ تعالٰی [1]۔ |
جس نے زبان سے کفرکیا حالانکہ دل ایمان پر تھا تو وہ کافر ہے اور وہ اﷲ تعالٰی کے ہاں بھی مومن نہیں۔(ت) |
جواہر الاخلاطی اور مجمع الانہر میں ہے:
|
من کفر بلسانہ طائعا وقلبہ مطمئن بالایمان کان کافرا عندنا وعنداﷲ تعالٰی [2]۔ |
جس نے زبان سے حالت خوشی میں کفر کااظہا ر کیا حالانکہ اس کا دل ایمان پر تھا تو وہ کافر اور اﷲ تعالٰی کے ہاں بھی مومن نہیں۔(ت) |
شرح فقہ اکبر میں ہے:
|
اللسان ترجمان الجنان فیکون دلیل التصدیق وجودا وعدما فاذا بدلہ بغیرہ فی وقت یکون متمکنا من اظہارہ کان کافر اوامااذا زال تمکنہ من الاظہار بالاکراہ لم یصر کافرا [3]۔ |
زبان دل کی ترجمان ہے تو یہ دل کی تصدیق یا عدم تصدیق پر دلیل ہوگی تو جب وہ اظہار ایمان پر قدرت کے باوجود عدم تصدیق کااظہار کرتاہے تو وہ کافر ہوگیا البتہ جب کسی جبر کی وجہ سے قدرت اظہار پر نہ ہو تو اب کافر نہ ہوگا۔(ت) |
طریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ میں ہے:
|
حکمہ ای التکلم بکلمۃ الکفر ان کان طوعا ای لم یکرھہ احد من غیر سبق لسان الیہ،احباط العمل و انفساخ النکاح [4]۔ |
اگر کلمہ کفر کا تکلم خوشی سے ہے یعنی کسی چیز کا اکراہ و جبر نہیں جبکہ سبقت لسانی نہ ہو،تو اس کا حکم یہ ہے کہ عمل ضائع اور نکاح ختم ہوجائے گا۔(ت) |
یہ شرح ہے میرے ان الفاظ کی،کہئے اس میں کون سی ان کے لئے مفرہے،ہاں اﷲ مجھے معاف کرے اتنا قصور ضرور ہواکہ لہجہ نرم تھا جس کے سبب گنجائش کا وہم گزرا وہ بے عقل یہاں سے سبق لیں جو سختی سختی پکارتے ہیں زمانہ کی حالت یہ ہے کہ ذرا نرم لفظوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے،ایك بات اور بھی قابل گزارش ہے کہ حدیث
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع