30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتی ورنہ جد ہو نہ ہزل۔ردالمحتار میں ہازل کی نسبت ہےـ:
|
انہ تکلم بالسبب قصد افیلزمہ حکمہ وان لم یرض بہ [1]۔ |
اس نے قصدًا سبب کا تکلم کیا لہذا اس پرحکم لازم ہوگا اگرچہ وہ اس سے راضی نہ تھا۔(ت) |
اور بفرض غلط اگر دھوکا دینا ضرور بھی ہو تو ہر ضرورت کفر سے نہیں بچاتی،یوں توجوننگے بھوکے پیٹ کی خاطر عیسائی ہوجاتے ہیں انھیں بھی کہئے کافر نہ ہوئے کہ بضرورت کفر اختیار کیا،یہاں وہ ضرورت معتبر ہے کہ حداکراہ شرعی تك پہنچی اور یہ بداہۃً ظاہر کہ دھوکا دینا ضروری بھی سہی تاہم تو حداکراہ تك کسی طرح نہیں پہنچ سکتا،کیا قائل اگر یہ دھوکا نہ دیتا تو کوئی اسے قتل کردیتا یا ہاتھ پاؤں کاٹ دیتا یاآنکھیں پھوڑدیتا،کچھ بھی نہ ہوتا اس کے ایك رونگٹے کو بھی ضرر نہ پہنچتا تو یقینا اس نے بلااکراہ وہ کلمات کفر بکے اور واحد قہار عزجلالہ نے کلمہ کفربکنے میں کافر ہونے سے صرف مبتلائے اکراہ کا استثناء فرمایا ہے کہ ارشاد فرماتاہے:
|
" اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالۡاِیۡمٰنِ "[2] |
سوا اس کے جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو۔(ت) |
یہاں اکراہ درکنار ایك رونگٹے کو بھی کچھ نقصان نہ پہنچتا تھا ایك دھیلا بھی گرہ سے نہ جاتا تھا اور بکے وہ کلمات کہ مجرد علامت کفر نہیں،بلکہ حقیقۃً خود کفر خالص ہیں تو قطعا دل کھول کر کفر بکنا ہوا اور یقینا بنص قطعی قرآن کفر ہے ولہذا جو بلا اکراہ کلمہ کفر بکے بلا فرق نیت مطلقًا قطعا یقینا اجماعا کافرہے عورت اس کی نکاح سے فورًا نکل جاتی ہے جب تك از سرنو اسلام نہ لائے اور اپنے کلمات ملعونہ سے براءت وتوبہ صادقہ نہ کرے ہر گز اس سے نکاح نہیں ہوسکتا اوراگر اسلام لے آئے تو بہ کرے اور پھر نکاح سابق کی بنا پر عورت کو زوجہ بنائے تو قطعا زنائے خالص ہے،فتاوٰی امام قاضی خاں وفتاوٰی عالمگیری میں ہے:
|
رجل کفر بلسانہ طائعا وقلبہ مطمئن بالایمان یکون کافر اولایکون عنداﷲ تعالٰی مومنا [3]۔ |
ایك شخص نے زبان سے حالت خوشی میں کفر کا اظہار کیا حالانکہ اس کا دل ایمان پر تھا تو وہ کافر ہے اور وہ اﷲ تعالٰی کے ہاں مومن نہیں ہے۔(ت) |
حاوی میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع