30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وغیرہ کتابیں اس کے پاس موجودہیں تو اب علماء سے سوال یہ ہے کہ شخص جو کہ خلافت ترکی صحیح مانتاہے اور شریف صاحب کو بوجہ ترکوں سے جدا ہونے کے برا سمجھتا ہے او رجس کی باتیں اور خیالات اوپر بیان ہوئے کیسا ہے،اس جملہ مذکورہ بالامیں شریك ہونا کیساہے اور اس شخص کے کون کون سے خیالات وعقیدے برے ہیں،خداوخدا کے رسول کے نزدیك ایسے خیالات رکھنے والے کا کیا حکم ہے ؟ مفصل تحریر فرمائیں تاکہ جو خیالات اس کے برے ہوں ان سے اہل سنت وجماعت بچنے کی کوشش کریں،جواب مہری و دستخطی ہونا چاہئے۔
الجواب:
جو شخص پڑھالکھا ہوکر مدرسہ دیوبند کی تعریف کرے اور دیوبند یوں کی نسبت کہے کہ میں ان کو برا نہیں کہتا۔اس قدر اس کے مسلمان نہ ہونے کو بس ہے،علمائے کرام حرمین طیبین نے بالاتفاق تحریر فرمایا ہے،کہ یہ لوگ کفار مرتدہیں،اور فرمایا:من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر [1]جو ان کے کافر ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر،"ہندوؤں کی دوستی کرنا قرآن سے ثابت ہے"حالانکہ قرآن عٖظیم جابجا اس کے خلاف پر ناطق ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز باطل محض ہے اور اسے امامت سے علیحدہ کرنا فرض ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔
جواب مسئلہ:مسئولہ حضرت مولانا سید سلیمان اشرف علی صاحب بہاری پروفیسر دینیات علی گڑھ کالج ۱۳ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
(۱)معاملہ(۲)مدارات(۳)برواقساط(۴)معاشرت(۵)مداہنت(۶)رکون(۷)وداد(۸)اتحاد(۹)انقیاد(۱۰)تبتل
ان مدارج عشرہ میں ہر دوسرا پہلے سے زائدہیں اور ہر پہلے میں دوسرے کی شرط کا انتفاء
ملحوظ ہے،پہلا بشرط لا شیئ کے مرتبہ اوردوسرا بشرط شیئ کے مرتبہ میں۔
موالات کی دو۲قسمیں ہیں:حقیقی وصوری۔حقیقی کی پانچ قسمیں رکون سے آخر تك یہ مطلقًا ہمشہ حرام ہیں ہر کافر سے،اور ہمیشہ حرام رہیں گی،اور صوری کی چار قسمیں مدارات سے مداہنت تک۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع