30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
" فَہَلْ عَسَیۡتُمْ اِنۡ تَوَلَّیۡتُمْ اَنۡ تُفْسِدُوۡا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوۡۤا اَرْحَامَکُمْ ﴿۲۲﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَعَنَہُمُ اللہُ فَاَصَمَّہُمْ وَ اَعْمٰۤی اَبْصٰرَہُمْ ﴿۲۳﴾ "[1]۔ |
کیا قریب ہے کہ اگر والی ملك ہو تو زمین میں فساد کرو اور اپنے نسبی رشتہ کاٹ دو،یہ ہیں وہ لوگ جن پر اﷲ تعالٰی نے لعنت فرمائی تو انھیں بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ |
شك نہیں کہ یزید نے والی ملك ہو کر زمین میں فساد پھیلایا،حرمین طیبین وخود کعبہ معظمہ وروضہ طیبہ کی سخت بے حرمتیاں کیں،مسجد کریم میں گھوڑے باندھے،ان کی لید اورپیشاب منبر اطہر پر پڑے،تین دن مسجد نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بے اذان ونماز رہی،مکہ ومدینہ وحجاز میں ہزاروں صحابہ تابعین بے گناہ شہید کئے،کعبہ معظمہ پر پتھر پھینکے،غلاف شریف پھاڑا اور جلایا۔مدینہ طیبہ کی پاکدامن پارسائیں تین شبانہ روز اپنے خبیث لشکر پر حلال کردیں،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے جگر پارے کو تین دن بے آب ودانہ رکھ کر مع ہمراہیوں کے تیغ ظلم سے پیاسا ذبح کیا،مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے گو دکے پالے ہوئے تن نازنین پر بعد شہادت گھوڑے دوڑائے گئے کہ تمام استخوان مبارك چور ہوگئے،سرانور کہ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا بوسہ گاہ تھا کاٹ کر نیزہ پر چڑھایا اور منزلوں پھرایا۔حرم محترم مخدرات مشکوئے رسالت قید کئے گئے اور بے حرمتی کے ساتھ اس خبیث کے دربار میں لائے گئے،اس سے بڑھ کر قطع رحم اور زمین میں فساد کیا ہوگا،ملعون ہے وہ جو ان ملعون حرکات کو فسق وفجور نہ جانے،قرآن عظیم میں صراحۃً اس پر" لَّعَنَہُمُ اللہُ "[2] (ان پر اﷲ کی لعنت ہے۔ت)فرمایا۔ لہذا مام احمد اور ان کے موافقین ان پر لعنت فرماتے ہیں اور ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے لعن وتکفیر سے احتیاطًا سکوت فرمایا کہ ا س سے فسق وفجور متواتر ہیں کفر متواتر نہیں،اور بحال احتمال نسبت کبیر ہ بھی جائز نہیں نہ کہ تکفیر اور امثال وعیدات مشروط بعدم توبہ ہیں لقولہ تعالٰی،" فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا ﴿ۙ۵۹﴾ اِلَّا مَنۡ تَابَ"[3](توعنقریب دوزخ میں غی کاجنگل پائیں گے مگر جو تائب ہوگئے۔ت) اور توبہ تادم غرغرہ مقبول ہے اور اس کے عدم پر جزم نہیں اور یہی احوط واسلم ہے،مگر اس کے فسق وفجور سے انکار کرنا اور امام مظلوم پر الزام رکھنا ضروریات مذہب اہل سنت کے خلاف ہے اور ضلالت و بدمذہبی صاف ہے،بلکہ انصافا یہ اس قلب سے متصور نہیں جس میں محبت سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا شمّہ ہو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع