30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ٹوٹ پڑے ہیں کیا علمائے اہلسنت پر واجب نہیں کہ اپنے علم کو ظاہر کریں اورمیدان میں آکر تحریرا وتقریرا احیاء سنت اماتت بدعت ونصرت ملت فرمائیں اگر ایسانہ کریں سکوت وخاموشی سے کام لیں تو کیا اس حدیث شریف کے مورد نہ ہوں گے جو فتاوٰی الحرمین میں مذکور ہے۔
|
قال الامام ابن حجر المکی فی الصواعق المحرقۃ ان الحامل الداعی لی علی التالیف فی ذٰلك وان کنت قاصرا عن حقائق ماھنالك مااخرجہ الخطیب البغدادی فی الجامع وغیرہ انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال اذا ظھرت الفتن او قال البدع وسب اصحابی فلیظھر العالم علمہ فمن لم یفعل ذٰلك فعلیہ لعنۃ اﷲ والملٰئکۃ والناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ صرفا ولاعدلا [1] اھ۔ |
امام ابن حجر مکی صواعق محرقہ میں فرماتے ہیں واضح ہو کہ اس تالیف پر میرے لئے باعث وسبب اگرچہ میرا ہاتھ یہاں کے حقائق سے کوتاہ ہے وہ حدیث ہوئی جو خطیب بغدادی نے جامع میں اور ان کے سوا اور محدثین نے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جب فتنے یا فرمایا بدمذہبیاں ظاہر ہو ں اور میرے صحابہ کو براکہا جائے تو واجب ہے کہ عالم اپنا علم ظاہر کرے جو ایسا نہ کرے گا ا س پر اﷲ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی لعنت ہے اﷲ تعالٰی نہ اس کا فرض قبول فرمائے نہ نفل۔ |
(۵)جو شخص مسجد میں آکر اپنی زبان سے لوگوں کو ایذا دیتاہو اس شخص کو مسجد سے نکالنے کا حکم ہے،اس کے نکالنے کے بارے میں درمختارکایہ قول نص صریح ہے یانہیں؟
|
واکل نحوثوم ویمنع منہ وکذاکل موذولو بلسانہ [2]۔ |
یعنی مسجد میں داخل ہونے سے بد بودار چیزوں مثل کچا لہسن کھانے والے کو منع کیا جائے اور اسی طرح ہر ایذا دینے والا اگرچہ زبان سے دیتاہو دخول مسجد سے روکا جائے۔ |
ردالمحتارمیں تحت قول و اکل نحوثوم فرمایا:
|
ای کبصل ونحوہ ممالہ رائحۃ کریھۃ للحدیث الصحیح فی النھی عن قربان اکل الثوم والبصل المسجد،قال |
یعنی جیسے پیاز وغیرہ ان چیزوں سے جن میں بدبو ہویہ حکم موافق حدیث صحیح ہے جو کچالہسن اور پیاز کھانے والے کی ممانعت دخول مسجد میں ہے، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع