30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فی الاعلام فی فصل الکفر المتفق علیہ بین ائمتنا الاعلام من تلفظ الکفر یکفر وکل من استحسنہ او رضی بہ یکفر اھ [1]۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ طائفے سب کے سب(اسماعیلیہ،نذیریہ،امیریہ،قاسمیہ،مرزائیہ،رشیدیہ،اشرفیہ)مرتد ہیں،باجماع امت اسلام سے خارج ہیں اور بیشك بزازیہ اور درر غرر اور فتاوٰی خیریہ اور مجمع الانہر اوردرمختار وغیرہا معتمد کتابوں میں ایسے کافروں کے حق میں فرمایا کہ جو ان کے کفر و عذاب میں شك کرے خود کافرہے،اورشفا شریف میں فرمایا ہم اسے کافر کہتے ہیں جو ایسے کو کافرنہ کہے جس نے ملت اسلام کے سوا کسی ملت کا اعتقاد کیا یاان کے بارے میں توقف کرے یا شك لائے،اور بحرالرائق وغیرہ میں فرمایا جو بددینوں کی بات کی تحسین کرے یا کہے کچھ معنی رکھتی ہے یا اس کلام کے کوئی صحیح معنی ہیں اگر اس کہنے والے کی وہ بات کفر تھی تو یہ جو اس کی تحسین کرتاہے یہ بھی کافر ہوجائے گا،اورامام ابن حجر نے کتاب الاعلام کی اس فصل میں جس میں وہ باتیں گنائی ہیں جن کے کفر ہونے پر ہمارے ائمہ اعلام کا اتفاق ہے فرمایا جو کفر کی بات کہے وہ کافر ہے اور جو اس بات کو اچھا بتائے یا اس پر راضی ہو وہ بھی کافر ہے انتہی۔
تو موافق ارشاد علمائے مکہ مکرمہ ومدینہ ومطابق حکم معتمد المستند نذیر حسین دہلوی وامیر احمد سہسوانی و قاسم نانوتوی ومرزا غلام احمد قادیانی ورشید احمد گنگوہی واشرف علی تھانوی اور ان سب کے مقلدین ومتبعین وپیروان ومدح خوان باتفاق علمائے اعلام کافرہوئے او رجو ان کو کافر نہ جانے ان کے کفر میں شك کرے وہ بھی بلا شبہ کافرہے چہ جائیکہ پیشوا اور سردارجانیں والعیاذ باﷲ الکریم۔وھو یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرٰطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ﴿۱۴۲﴾ ""[2](وہ جسے چاہتاہے سیدھی راہ چلاتاہے۔ت)ہم کو چونکہ اختصار منظور تھا لہذا ان گمراہوں گمراہ گروں کافروں کے وہ اقوال ملعونہ ومردودہ جن پرحکم فسق و کفر لگایا گیا بالکل نقل نہیں کئے،اور ان اقوال پر علمائے حرمین نے جس قدر احکام لگائے ہیں ان میں صرف دس پانچ تحریر ہوئے،جو صاحب ان فرق باطلہ کے اقوال عقوبت مال اور ان احکام علمائے اہل کمال پر اطلاع چاہیں وہ فتاوٰی الحرمین وحسام الحرمین مطالعہ فرمائیں۔
(۴)ایسے نازك وقت میں کہ ہر چہار طرف سے دین حق پر حملے ہورہے ہیں اور بیخ کنان سخت یکبارگی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع