30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱)ایك صاحب مسمی مولوی اشرف علی ساکن قصبہ تلہر ضلع شاہجہانپور دوسرے صاحب حکیم عبداﷲ مقیم تلہر ہیں،حکیم صاحب کا یبان ہے کہ"یزید فاسق فاجر نہ تھا اس کو برا نہ کہا جائے اور سیدنا امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو اس کے یہاں جانا نہ چاہئے تھا،کیوں گئے،اور یہ ملکی جنگ تھی"دوسرے یہ کہ نماز فجر کے بعد مسلمانوں نے ان سے مصافحہ کرناچاہا انھوں نے مصافحہ نہ کیا اور بدعت بتادیا،کیا حکیم صاحب کایہ بیان سراسر غلط نہیں۔کیا انھوں نے حضرت سیدا لشہدا رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی شان ارفع واعلٰی میں گستاخی نہ کی؟ داد کذب بیانی نہ دی؟ کیا مصافحہ سے دست کشی وانکار اس امر کو ثابت نہیں کرتا کہ اس کی مراد بدعت سے بدعت سیئہ ہے اور ان کایہ فعل وہابیانہ ہے؟[1]
(۲)اول الذکر مولوی صاحب ایك زمانہ تك مدرسہ مولوی یسین واقع بریلی محلہ سرائے خام کے مدرس رہ چکے ہیں،کیا ان کی وہابیت کو اسی قدرکافی نہیں کہ ایك بدمذہب کے مدرسہ میں ملازم رہ کر اس مدرسہ کے دستور العمل درس تعلیم کی پابندی کرکے درس دیا چہ جائیکہ علم غیب حبیب خدا سید ہردوسرا علیہ افضل التحیۃ والثناء میں وہابیہ کا خیال مغویانہ قیل وقال،جو کوئی شخص صحیح العقیدہ علم حضور سراپانور کو روز اول سے قیامت تك کے تمام اشیاء ذرہ ذرہ کو کلیۃً وجزیۃً محیط جانے اور ان کے واسطے ماکان ومایکون کاعلم مانے اور قائل علم غیوب خمسہ ہو وہ شخص ان مولوی صاحب کے نزدیك مضل وضال قابل عقاب ونکال،اکابرعلمائے اہلسنت کثرہم اﷲ تعالٰی کی شان میں جن کی مدح وستائش میں مفتیان علام وعلمائے ذوی الاحترام حرمین طیبین وروم وشام وغیرہم مبالغہ فرمائیں اور ان کو پیشوا وسردار علمائے اہلسنت بتائیں،یہ صاحب بیہودہ الفاظ وناشائستہ کلمات زبان پرلائیں،ان صاحب کے تمام اوصاف میں باستثنائے مدرسی مدرسہ مذکورہ حکیم صاحب مذکور بھی شریك وہمخیال یہ دونوں صاحب مولوی قاسم نانوتوی بانی مدرسہ دیوبند ومولوی شید احمد گنگوہی ومولوی اشرف علی تھانوی کو اپنا پیشوا جانتے اور سرتاج اہلسنت مانتے ہیں،کیا دونوں صاحب کم سے کم بدعتی وبدمذہب نہیں؟،کیا ان کے ساتھ ان احادیث واقوال کے مطابق عمل نہ کیا جائے جو فتاوٰی الحرمین طبع بمبئی میں مذکور ہیں:
|
فی ۱صحیح مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم۔ |
صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوھریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ان سے الگ رہو انھیں اپنے سے دور رکھو کہیں وہ تمھیں بہکا نہ دیں وہ تمھیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع