30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قائم کرکے ایك بحث طویل کی جاسکتی ہے کہ فلاں مسلم یا نامسلم فلاں سلطنت مظلومہ اور فلاں ملك کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت اور حفاظت کی کوشش بلیغ کررہاہے اس کے جلسہ وجلوس اور وعظ وبیان کی شرکت اور اس کی تعظیم ومدح اور اس کی اقتداء وپیروی سب جائز بلکہ ضروری ہے اور جو اس بات سے احتراز کرے یاا س پر اعتراض کرے تو وہ آیہ شریفہ کے خلاف کام کرتاہے اور گنہ گار ہے جو دوسروں کو امورمتذکرہ بالا سے منع کرتاہے یا روکتاہے وہ آیہ شریفہ کے حصہ آخر یعنی شفاعت سیئہ کا مرتکب ہوا،امید کہ اس کی نسبت تصریح ووضاحت فرماکر ماجور ومشکور ہوں۔
الجواب:
آیہ کریمہ کی نسبت ایسا وسوسہ محض القائے شیطان رجیم ہے،قرآن عظیم میں اعمال حسنہ و سیئہ کی ایك عام میزان ومعیار مقرر فرمائی ہے کہ تمام فروع میں ملحوظ ومرعی ہے اﷲ جل وعلا ارشاد فرماتاہے:
" وَ مَنْ اَرَادَ الۡاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَہَا سَعْیَہَا وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعْیُہُمۡ مَّشْکُوۡرًا ﴿۱۹﴾"[1]جو آخرت چاہے اور اس کے قابل کوشش کرے اور شرط یہ ہے کہ ہو مسلمان تو ان لوگوں کی کوشش مشکور ہوگی۔ اور کافروں کی نسبت فرماتاہے: " وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰی مَا عَمِلُوۡا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴿۲۳﴾"[2]یعنی کافر کچھ بھی عمل کرے ہم نے اس کو تباہ وبرباد کردیاہے، کافر سے اصلا کوئی حسنہ قبول نہیں بلکہ اس سے کوئی حسنہ متصو ر ومعقول نہیں،امور ثواب کے عمومات میں ہمیشہ صرف اہل اسلام مراد ہیں،رب عزوجل فرماتاہے:
|
" مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ وَلَہٗۤ اَجْرٌ کَرِیۡمٌ ﴿۱۱﴾"[3] |
کون ایسا ہے جو اﷲ کے لئے قرض حسن دے اﷲ اسے دونا دون عطا فرمائے اور اس کے لئے عزت والاثواب ہے۔ |
کیا کوئی کہہ سکتاہے کہ کافر اگر کسی کودوا یك روپے بے سود قرض دے دے وہ اس آیت میں داخل ہے اور اس کے لئے عزت کا ثواب ہے،صورت دائرہ نہ صورت شفاعت ہے نہ شفاعت حسنہ بلکہ بداہۃ سخت شناعت سیئہ ہے،مسلمان کہلانے والوں نے مشرکین سے وداد بلکہ اتحاد بلکہ غلامی وانقیاد واختیار کیا،شعائر اسلام کی بندش میں کوشاں ہیں،اورشعار کفر قبول کرنے پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع