30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
والتفصیل فی رسالتنا"انفس الفکر فی قربان البقر"(تفصیل ہمارے رسالے"انفس الفکر فی قربان البقر"میں ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۰۰ و ۲۰۱: از آنولہ ضلع بریلی مرسلہ چودھری رحیم بخش صاحب مورخہ ۷ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید گائے قربانی کے واسطے خرید کی،چونکہ قربانی گائے کی اہل ہنود کے واسطے باعث دل آزاری ہوگی اس لئے زید خوشنودی اہل ہنود کے واسطے گائے خریدکردہ سے بیل یا بھینس وغیرہ بدل کر قربانی کرنا چاہتاہے تو عندالشرع یہ بدلنا درست ہے یا نہیں؟ اور گائے کی قربانی بوجہ اتحاد کے موقوف کردینا درست ہے یانہیں؟
(۲)محض خوشنودی اہل ہنود کے لئے قربانی بجائے تین روز کے ایك ہی دن مقرر کریں،درست ہے یانہیں؟ اور ایك دن مقرر کرلینے والوں کو عندالشرع کیاحکم ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
(۱)وہ گائے کہ بہ نیت قربانی خریدی،اس کا دوسری گائے سے بدلنا بھی منع ہے کہ اﷲ کے واسطے ا س کی نیت کرکے پھرنا معیوب ہے،اور ہندوؤں سے اتحاد حرام،اور اس کی وجہ سے گائے کی قربانی موقوف کرنا حرام،اور حرام موجب غضب جبار وعذاب نار،ایسا کرنے والوں کو حشر ہندوؤں کے ساتھ ہوگا،حدیث میں ارشاد ہوا کہ"میں قسم کھاکرفرماسکتاہوں کہ جو جس سے اتحاد رکھے گا اس کاحشر اسی کے ساتھ ہوگا[1]"واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲)یہ بھی حرام ہے،ہنود کی خوشنودی کے لئے اﷲ ورسول کے حکم میں تنگی کرنا مسلمانوں کا کام نہیں،واﷲ تعالٰی اعلم۔
___________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع