30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
مولٰنا المکرم وذوالمجد والکرم اکرمکم وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔
یہ مسئلہ بھی کچھ قابل سوال ہے،حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من کان یجب ان یعلم منزلتہ عنداﷲ فلینظر کیف منزلۃ اﷲ عندہ۔فان اﷲ ینزل العبد منہ حیث انزلہ من نفسہ [1]۔رواہ الحاکم فی المستدرك و الدارقطنی فی الافراد عن انس وابونعیم فی الحلیۃ عن ابی ھریرۃوعن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔ |
جو یہ جاننا پسندکرے کہ اﷲ کے نزدیك اس کا مرتبہ کتنا ہے وہ یہ دیکھے کہ اس کے دل میں اﷲ کی قدر کیسی ہے کہ بندے کے دل میں جتنی عظمت اﷲ کی ہوتی ہے اﷲ اسی کے لائق اپنے یہاں اسے مرتبہ دیتاہے(اسے حاکم نے مستدرك میں اور دارقطنی نے افراد میں انس وابونعیم نے حلیہ میں ابوہریرہ اورسمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔ت) |
آدمی اگر اﷲ ورسول کے معاملہ کوا پنے ذاتی معاملہ کے برابر ہی رکھے،تو دین میں اس کی سرگرمی کے لئے بس ہے،ہم دیکھتے ہیں کہ انسان ذرا سی نالی یاپرنالے کی ملك بلکہ مجرد حق کے لئے کس قدر جان توڑ عرق ریزیاں کرتاہے اس کا مقدمہ منتہاتك پہنچا تاہے،کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتا،پیسہ کے مال پر ہزاروں اٹھادیتاہے،دنیوی فریق کے مقابل کسی طرح اپنی دبتی گوارانہیں کرتا،گائے کشی مسلمان کا دینی حق ہے،اور حق بھی کیسا،خاص شعار اسلام،اﷲ عزوجل فرماتاہے:
|
" وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰہَا لَکُمۡ مِّنۡ شَعٰٓئِرِاللہِ"[2]۔ |
اونٹ اور گائے کی قربانی کوہم نے تمھارے لئے دین الہٰی کے شعاروں سے کیا۔ |
امام محمد جامع صغیر میں فرماتے ہیں:وَالْبُدْنَ مِنَ اَلْاِبِلِ وَالْبَقَرِ [3](اونٹ اور گائے بُدنہ ہیں۔ت)اور اگرشعار اسلام کو اور بھی خاص اعدائے اسلام کے مقابلہ میں اپنی ایك نالی کے برابر بھی نہ سمجھو،تو جان لو کہ اﷲ واحد قہار ہے یہاں تمھاری قدر کتنی ہے اگر وہ ضرورت وضرر جو سوال میں مذکور ہوئے نہ بھی ہوتے بقدر قدرت کوشش لازم تھی،
حدیث میں ہے: لیس منا من اعطی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع