30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گناہ کبیرہ پر اصرار اگرچہ کفرنہیں،مگر دشمنان دین کی دوستی اگر آج کفر نہ ہو تومعاذاﷲ مرتے وقت کافر اٹھاتی ہے کہ انھیں کے ساتھ حشر ہو،اورمطلقًا علمائے دین یا کسی عالم دین کی ان کے عالم ہونے کے سبب براکہنا،یا شریعت مطہر کی ادنٰی توہین کرنا،یہ تو یقینا قطعًاکفر وارتداد ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۹ تا ۱۹۴: ازرائے بریلی مقام مدرسہ رحمانیہ عربیہ مسئولہ مسلمانان رائے بریلی ۲۰ جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لیڈران قوم جو علم شریعت سے ناواقف اوراحکام شریعت سے بے بہرہ ہیں،انھوں نے ۷ جنوری ۱۳۱۰ھ کو بمقام ٹاؤن ہال ایك میٹنگ منعقد کرکے اہالیان شہر کو جمع کیا اور قوم ہنود کی ہمدردی کو اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ نہایت پر زور تقریر و تائید میں دکھلاتے ہوئے باوجود مقامی عالم دین کے اختلاف ومتفق الرائے نہ ہونے کے اس امر پر بے حد مصر ہوئے کہ قوم ہنود کی ہمدردی کے صلہ میں گائے کی قربانی جو ان کے سخت دل آزاری کا سبب،اورباہمی اتفاق اور اتحاد کے لئے سدباب اور رخنہ انداز ہے قطعا چھوڑدینا چاہئے کیونکہ اس وقت ان کی محبت اور ہمدردی بالخصوص معاملت ترکی وخلافت عثمانیہ کے بارے میں بیحد ضروری ہے ان کی معیت معاملات مذکورہ میں قطعا مفید،اور ان کی علیحدگی قطعا مضر ہوگی،اور یہ بھی بیان کیا کہ شریعت نے ہم کو اختیار دیا ہے کہ گائے بکری،بھیڑ وغیرہ جس کی چاہیں قربانی کریں بلکہ مینڈھا کی قربانی افضل ہے،لہذا افضل کے ہوتے ہوئے گائے کی قربانی جس میں دل آزاری قوم ہنود کی ہے ہر گز نہ کرنا چاہئے،چنانچہ افسر علمائے ہند جناب مولانا عبدالباری صاحب نیز دیگر علمائے پنجاب نے ایسا ہی فتوٰی دے دیا ہے اور یہ بھی ظاہر کیاکہ وہ غرباء جو مثلا دس روپے کی گائے لے کر سات آدمیوں کی طرف سے قربانی کرلیا کرتے تھے اب ان کے لئے یہ انتظام کیاجائے گا کہ ان سے دس روپیہ لے کر سات بکرایا بھیڑ ہم لوگ بہم پہنچادیا کریں گے اور زائد روپیہ ہم لوگ اپنے پاس سے لگادیا کریں گے،یا بھیڑ اور بکری بہ نرخ بازار مثلا چارپانچ روپیہ راس ہم لوگ خرید کر فراہم رکھیں گے اور غرباء کو مثلا ایك روپیہ راس دیا کرینگے،جس کے لئے کچھ چندہ بھی کیا گیا ہے،مگر اس کے لئے نہ کوئی جائداد وقف کرتے ہیں اور نہ ہمیشہ کے لئے کوئی رجسٹری کی صورت ہے،چونکہ اس امر پر پورااعتماد ہے کہ یہ لوگ اس بار عظیم کو ہمیشہ نہ نباہ سکیں گے،لہذا ضرور اور اغلب ہے کہ اس میں قوم ہنود سے خفیہ یا صراحۃ ضرور امداد لیں گے۔
لیڈران قوم کاخیال ہے کہ جس قدر قربانیاں سالہا ئے گزشتہ میں گائے کی لوگوں نے کی ہیں انھیں کوا مداد دی جائے گی،او رجو لوگ جدید قربانی کرنا چاہیں گے ان کو امداد نہ دی جائے گی،نیز جو لوگ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع