30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وسلم فی سفر فحضرالاضحٰی اشترکناہ فی البقرۃ عن سبعۃ [1]۔ |
میں تھے کہ بقر عید آئی تو ہم نے سات آدمیوں کی طرف سے ایك گائے ذبح کی۔ |
سبحان اللہ! جوکام خود ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کیا اور ہمیں اس کاحکم دیا،اسے مذہب اسلام کے خلاف جاننا،یا مذہب اسلام میں اس کی اجازت وہدایت نہ ماننا کیسی کھلی ہٹ دھرمی ہے۔
(۵)اس بیان میں ایك بڑی ناانصافی یہ ہے کہ ہماری تو صرف کتاب آسمانی سے ثبوت چاہا۔جو ہم روشن طورپر ادا کرچکے اور اپنے لئے شاستر کا دامن پکڑا وید کانام کیوں نہ لیا جسے اپنے نزدیك کتاب آسمانی بتاتے ہیں،اگر سچے ہیں تو اب اپنے ویدسے قربانی گاؤ کی ممانعت ثابت کریں،اورشاستر پر بنائے مذہب رکھتے ہیں،تو ہماری بھی کتب فقہ کو بنائے مذہب جانیں،ہدایہ،درمختار،قاضی خاں،عالمگیری وغیرہا ہزار دس ہزار کتابیں جو چاہیں دیکھ لیں جس میں قربانی کا باب مذکورہے۔ان سب میں قربانی گاؤ نہایت صریح طورپر مسطور ہے،تو اسے خلاف مذہب بتانا صریح دھوکا دیناہے۔
(۶)یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ اس بیان ہنود نے خوب ثابت کردیا کہ مورتی پوجن اور بتوں کے آگے گھنٹا بجانا،سنکھ پھونکنا،مہادیو پر پانی ٹپکانا،ہولی دیوالی وغیرہ وغیرہ صدہا باتیں کہ ہنود نے اپنی مذہبی ٹھہرا رکھی ہیں جن کا ذکر ان کے وید میں نہیں سب ان کے خلاف مذہب ہیں کہ جس کتاب پربنیاد مذہب ہنودہے ان کا پتا نہیں دیتی پچھلے ہنود نے محض براہ حیلہ انھیں مذہبی بنارکھاہے۔
(۷)سب سے زائد یہ ہے کہ وید جس پر مذہب ہنود کی بنا ہے خود صاف صاف قربانی گاؤ کی اجازت دے رہا ہے،اخبار پانیر ص ۷ کالم ۴ مطبوعہ ۱۰ اپریل ۱۸۹۴ء میں ایك مضمون چھپا ہے کہ :"ہندوستان قدیم میں گائے کی قربانی"
اسی میں وید سے نقل کیا:
"اے اگنی! یہ پاك نذر صدق دل سے راگ کی صورت میں تیرے حضور پیش کرتے ہیں،اور تمنا ہے کہ یہ سانڈ اور گہنیاں تجھے پسند آویں۔"
رگ وید ۶: ۱۶۔۴۷ میں تہ دل سے سوما کا عرق پینے والی اگنی خالق کی،جسے گھوڑے اور سانڈ اور بیل اور گہنیاں اور منت کے مینڈھے چڑھائے جاتے ہیں ستائش کروں گا۔رگ ۱۰ : ۹۱۔۱۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع