30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زیادہ دن گزریں تو نفرت کرنے لگتی ہے بخلاف نان گندم وگوشت کہ عمر بھر کھائے تو اس سے تنفر نہیں ہوتا۔معہذا گائے کی کھال وغیرہ سے جوہزار ہا قسم کے منافع ملتے اوران منفعتوں میں ہنود بھی ہمارے شریك ہوتے ہیں،اور چنداقوام کی تجارتیں اور ان کے رزق کے ظاہری سامان گاؤ کشی کانتیجہ ہیں۔
تو سائل کا یہ قول کہ"کوئی فائدہ اس فعل پر مرتب نہ ہو"محض تصویر غلط ہے اور گائے کی قربانی خاص ہمارے شعائر دین سے ہے،ہمارا مالك ومولٰی تبارك وتعالٰی صریح ارشاد فرماتاہے:
|
" وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰہَا لَکُمۡ مِّنۡ شَعٰٓئِرِاللہِ "[1] |
اور اونٹ اور گائے کو کیاہم نے تمھارے لئے خداکے شعاروں میں سے۔ |
اور یقینًا معلوم کہ ہمارے ملك میں اونٹ ہماری غذا وادائے واجب قربانی کے لئے کفایت نہیں کرسکتے۔اول تو سخت گراں،دوسرے بہ نسبت گاؤ نہایت قلیل الوجود،اور اگرگاؤ کشی موقوف کرکے اونٹ پر کفایت کی جائے تو چند روزمیں اونٹ کی قیمت دہ چند ہوجائے گی،اور یہ نفع عام جو ہمارے غرباء کو پہنچتاہے ہرگز اس سے متوقع نہیں،اور عجب نہیں کہ رفتہ رفتہ بوجہ قلت اونٹ حکم عنقا کا پیدا کرے،تو رفع حاجت دائمہ اس سے متوقع نہیں،اور بکری کا گوشت کھانے کے لئے بھی تھوڑے لوگوں کو ملتاہے،اور قربانی کے واسطے بھی ہر شخص ایك بکری جدا گانہ کرے کہ سال بھر سے کم کی نہ ہو،اور اس کے اعضاء بھی عیب و نقصان سے پاك ہوں بخلاف اس غریب پرور جانور یعنی گائے کے کہ ہمارے مسئلہ شرعیہ سے اس میں سات شخص شریك ہوسکتے ہیں،اور بیشك سات بکریاں ایك گائے سے ہمیشہ گراں رہتی ہیں۔معہذا ہمارے مذہب میں اس کا جواز اور ہنود کے یہاں ممانعت ایك پلہ میں نہیں،ہماری اصل شریعت میں اس کا جواز موجود، قرآن مجید میں ہے:
|
" اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُکُمْ اَنْ تَذْبَحُوۡا بَقَرَۃً ؕ"[2]۔وشرائع من قبلنا اذا قصھا اﷲ تعالٰی علینا من دون انکار شرائع لنا [3](ملتقطا)کما نص علیہ فی کتب الاصول۔ |
بیشك اﷲ تمھیں حکم دیتاہے کہ گائے ذبح کرو۔(ت)ہم سے پہلی شریعتوں کو جب اﷲ تعالٰی بیان فرماکر منع نہ فرمائے تو وہ ہماری شریعت ہوجاتی ہے(ملتقطا)جیسا کہ کتب اصول میں منصوص ہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع