30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتح القدیر میں فرمایا:
|
عمم المتاخرون المنع العجائز والشواب فی الصلوات کلھا لغلبۃ الفساد فی سائر الاوقات [1]۔ |
غلبہ فساد کی وجہ سے تمام اوقات کی نمازوں میں عمومًا بوڑھی او رجوان عورتوں کا نکلنا متاخرین علماء نے منع فرمایا ہے۔ (ت) |
حالانکہ صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
اذا استأذنت احدکم امرأتہ الی المسجد فلا یمنعہا [2]رواہ احمد والشیخان والنسائی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما |
جب تم میں کسی کی عورت مسجد جانے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرے(اسے احمد،بخاری،مسلم اور نسائی نے ابن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت) |
دوسری حدیث میں فرمایا:
|
لاتمنعوا اماء اﷲ مساجد اﷲ [3] رواہ احمد ومسلم عن ابن عمر واحمد وابوداؤد عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ |
اﷲ کی کنیزوں کو اﷲ کی مسجدوں سے نہ روکو،(اسے امام احمداور مسلم نے ابن عمر سے اور احمد و ابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔ت) |
پھر ان ائمہ علماء کے یہ احکام ہر گز حکم اقدس کے خلاف نہ ٹھہرے بلکہ عین مطابق مقصود شرع قرار پائے،اس طرح رفتہ رفتہ حاملان شریعت وحکمائے امت نے حکم حجاب دیا اور چہرہ چھپانا کہ صدر اول میں واجب نہ تھا واجب کردیا۔نہایہ میں ہے:
|
سدل الشیئ علی وجھھا واجب علیھا [4]۔ |
چہرے پر پردہ لٹکانا عورت پر واجب ہے۔(ت) |
[1] فتح القدیر باب الامامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۱۷
[2] صحیح بخاری باب استیذان المرأۃ زوجہا بالخروج الی المسجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۰،صحیح مسلم باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۳
[3] صحیح مسلم باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۳،سنن ابی داؤد باب خروج النساء الی المساجد آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۸۴
[4] المسلك المتقسط علی لباب المناسك بحوالہ النہایہ مع ارشاد الساری مع فصل فی احرام المرأۃ دارالکتاب العربی بیروت ص۶۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع