30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں بقصد اثارت فتنہ وفساد ارتکاب اس کا واجب ہے،اور قربانی اونٹ کی بہتر ہے یا
اگر دستیاب بھی ہوئے توبہت قیمت سے اوریہ بھی ظاہر ہے کہ سات بھیڑ کی قیمت ایك گائے سے زیادہ ہوتی ہے اور اگر ہنود کہیں تم گائے مت کرو اونٹ بھیڑ قربانی کرو،تو اس کومان لینا واجب ہے یا نہیں؟ [1] بینوا توجروا
جواب: گائے ذبح کرنے کا جواز قرآن وحدیث سے ثابت ہے،آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اورصحابہ نے زمانہ آنحضرتص عــــــہ۱ میں اور بعد آنحضرت صلعم عــــــہ۲ کے اس کو ذبح کیا ہے اس کے گوشت حلال اور ذبح جائز ہونے پر اتفاق ہے تمام مسلمانوں کا خواہ بروز عید ہویا اور روز تومسلمان کو باز آنانہیں درست ہے،او رہندو کی ممانعت تسلیم کرلینا نہیں جائز ہے،تسلیم کرنا موجب ان کے اعتقاد باطل کی تقویت وترویج کاہوگا یہ کسی طرح شرع میں جا ئز نہیں۔اونٹ اگرچہ گائے سے اولٰی ہے مگر کوئی شخص اس پر مجبور نہیں کیا جاسکتا علی الخصوص جب ہنود بغرض تعصب کہیں کہ خواہ مخواہ اونٹ یا بکری کرو،مسلمانوں کو ضرور ہے کہ قول ہنود تسلیم نہ کریں اور گاؤ کشی کوکہ اسلام کا طریقہ قدیمہ ہے ترك نہ کریں بوجہ احتمال فساد ہنود گائے ذبح کرنے سے رکنا نہ چاہئے [2]"
"قربانی گائے کی شعار اسلام ہے اس کا موقوف کرنا بسبب ممانعت ہنود معصیت ہے"

یہ مجموعہ فتاوٰی جلد دوم طبع اول ص ۱۴۸ تا ص ۱۵۵ کاا قتباس ہے،الحمدﷲ کہ آخرمیں وہی سمجھنا پڑاجو حضرت مصنف مدظلہ نے بنگاہ اولین خیال فرمالیا،ذٰلك فضل اﷲ یؤتیہ من یشاء واﷲ ذوالفضل العظیم۔ان فتاوی کی نقل سے یہ بھی مقصود ہے کہ حضرت مصنف مدظلہ کے حکم وجوب کی بعض تائیدات واضح ہوں تا کہ بعض عوام کو زیادت اطمینان ملے وباﷲ التوفیق۔

عــــــہ۱: اقول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
عــــــہ۲: اقول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع