30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ارتکاب سے ثوران فتنہ وفساد ہوا ور مفضی بہ ضرر اہل اسلام ہو،اور کوئی فائدہ اس فعل پر مرتب نہ ہوا ور عملداری
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
جہاں عملداری ہنود کی ہو وہاں بقصد فتنہ انگیزی گاؤکشی نہ کریں یا یہ کہ بلادہند وغیرہ میں جہاں ہمیشہ سے اہل اسلام گائے ذبح کرتے آئے اور کبھی ان کو مقصود فتنہ انگیزی نہ ہوئی بلکہ اجرائے حکم شریعت اب اگر مسلمان ان بلاد میں گائے ذبح کرے اور ہندو بنظر تعصب منع کریں تو مسلمان اس سے بازرہے"[1]
طبیعت میں حق کی طرف رجوع کا مادہ تھا اس سوال سے تنبہ ہوا اورحضرات علماء نے یہ جواب تحریر فرمایا:"گائے ذبح کرنا اگرچہ مباح ہے واجب نہیں،مگر ایسا مباح نہیں کہ کسی زمانہ یابلاد خاص میں اس کارواج ہو بلکہ یہ طریقہ قدیمہ ہے زمان آنحضرت صلعم عــــــہ و صحابہ وتابعین وجملہ سلف صالحین سے تمام بلاد وامصار میں اوراسکی اباحت پر اجماع ہے تمام اہل اسلام کا،ایسے امر شرعی ماثور قدیم سے اگر ہنود روکیں تومسلمان کو اس سے باز رہنا نہیں درست ہے بلکہ ہر گاہ ہنود کا ایك امر شرعی قدیم کے ابطال میں کوشش کریں،اہل اسلام پر واجب ہے کہ اس کے ابقاء واجراء میں سعی کریں،اگرہنود کے کہنے سے اس فعل کو چھوڑیں گے تو گنہگار ہوں گے،اور مقصود اس جملہ میں جو جواب سابق میں ہے یہ ہے کہ بقصد برانگیختہ کرنے فتنہ وفساد کے گاؤ کشی نہ چاہئے مثلا جہاں عملداری ہنودکی ہو وہاں مسلمان بقصد ابتدائے مردم آزادی خواہ مخواہ ذبح کریں یا عیدالاضحٰی میں کسی ہندو کے مکان کے قریب جاکے بایں خیال ذبح کریں کہ فتنہ قائم ہو ایسی صورتوں کا ارتکاب نہ چاہئے بلکہ ایسی حالت میں ترک،اولٰی ہے اوربلاد ہندوستان وغیرہ میں ترك اولٰی نہیں بلکہ اس کے ابقا میں سعی واجب ہے ہے [2]"
![]()
سوال تو پہلے بھی ہندوستان ہی سے آیا تھا مگر اس وقت غور نہ فرمایا گیا۔ (باقی برصفحہ آیندہ)
عــــــہ: استغفراﷲ بلکہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲کاتب۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع