30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی طرف سے پہل نہ تھی امام نے خبیث کوفیوں کے وعدہ پر قصد فرمایا تھا جب ان غداروں نے بد عہدی کی قصد رجوع فرمایا اور جب سے شروع جنگ تك اسے بارباراحباب واعداء سب پر اظہار فرمایا۔
(ا)جب حر بن یزید ریاحی تمیمی رحمہ اﷲ تعالٰی اول بارہزار سواروں کے ساتھ حضرت امام عالی مقام رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مزاحم ہوئے امام نے خطبہ فرمایا:"اے لوگو! میں تمھارا بلایا آیاہوں،تمھارے ایلچی اور خطوط آئے کہ تشریف لائیے ہم بے امام ہیں،میں آیااب تم اگر عہد پر قائم ہو تومیں تمھارے شہر میں جلوہ فرماہوں"وان لم تفعلوا وکنتم بمقدمی کارھین انصرفت عنکم الی المکان الذی اقبلت منہ الیکم [1]"اوراگر تم عہد پر نہ رہو یا میرا تشریف لانا تمھیں ناپسند ہو تو میں جہاں سے آیا وہیں واپس جاؤں"وہ خاموش رہے۔
(ب)پھر بعدنماز عصر خطبہ فرمایا اوراس کے اخر میں بھی وہی ارشاد کیا کہ"ان انتم کرھتمونا انصرفت عنکم [2]اگر تم ہمیں ناپسند رکھتے ہو میں واپس جاؤں،حرنے کہاہمیں تویہ حکم ہے کہ آپ سے جدا نہ ہوں جب تك ابن زیاد کے پاس کوفے نہ پہنچادیں۔
(ج)امام نے اس پر بھی ہمراہیوں کو معاودت کاحکم دیا وہ بقصد واپسی سوار ہوئے حر نے واپس نہ ہونے دیا۔
(د)جب نینوٰی پہنچے حر کے نام ابن زیاد خبیث کا خط آیا کہ حسین کو پٹیر میدان میں اتاروجہاں پانی نہ ہو اور یہ میرا ایلچی تمھارے ساتھ رہے گا کہ تم میرا حکم بجالاتے ہو یانہیں۔حرنے حضرت امام کوناپاك خط کا مضمون سنایا اور ایسی ہی جگہ اترنے پر مجبور کیا،فدائیاں امام سے زہیر بن القین رحمہ اﷲ تعالٰی نے عرض کی: اے ابن رسول اﷲ ! آگے جو لشکر آنے والے ہیں وہ ان سے بہت زائد ہیں ہمیں اذن دیجئے کہ ان سے لڑیں،فرمایا:"ماکنت لابدأھم بالقتال[3]"میں ان سے قتال کی پہل کرنے کونہیں۔
(ہ)جب خبیث ابن طیب یعنی ابن سعد اپنا لشکر لے پہنچا حضرت امام سے دریافت کیا کیسے آئے؟ فرمایا: تمھارے شہر والوں نے بلایا تھا"فامااذکرھونی فانی انصرف عنہم [4]"اب کہ میں انھیں ناگوار ہوں واپس جاتاہوں،ابن سعدنے یہ ارشاد ابن زیاد کو لکھا،اس خبیث نے نہ مانا،قاتلہ اﷲ ۔
(و)شب کو ابن سعد سے خلوت میں گفتگو ہوئی اس میں بھی حضرت امام نے فرمایا:"دعونی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع