30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یمتنعون عن المنکر فالامرواجب لایسعہ ترکہ ولو علم باکبررأیہ انہ لو امرھم بذٰلك قذفوہ وشتموہ فترکہ افضل ولوعلم انہم لایقبلون منہ ولایخاف منہ ضربا ولاشتمافھو بالخیار والامر افضل [1]۔(ملخصا) |
بازآئیں گے تو امر بالمعروف واجب ہے اسے چھوڑنے کی گنجائش نہیں اور اگر اپنے غالب گمان سے جانتاہو کہ امر بالمعروف کرے گا تو یہ لوگ پتھر پھینکیں گے گالی دیں گے تو اس وقت امربالمعروف نہ کرنا ہی افضل ہے اور اگر جانیں مانیں گے تو نہیں مگر ان سے گالی کابھی اندیشہ نہیں تواختیار ہے چاہے امر بالمعروف کرے یا نہ کرے اور کرنا بہترہے۔ |
وجیز امام کردری وعالمگیریہ میں ہے:
|
اللحن حرام بلاخلاف فاذاقرأ بالالحان و سمعہ انسان ان علم انہ ان لقنہ الصواب لایدخل الوحشۃ یلقنہ وان دخلہ الوحشۃ فھو فی سعۃ ان لا یلقنہ۔فان کل امر بمعروف یتضمن منکر ایسقط وجوبہ [2]۔ |
قرآن عظیم کا غلط پڑھنا بالاتفاق حرام ہے تو اگر کوئی شخص غلط پڑھ رہا ہو اور دوسرا سنے اگر یہ سننے والا جانے کہ اسے صحیح بتاؤں گا تو اسے وحشت پیدا نہ ہوگی تو بتائے،اوراگر بتانے سے اسے وحشت پیدا ہوتو اسے گنجائش ہے کہ نہ بتائے کہ جو امربالمعروف کسی منکر کومتضمن ہو اس کا وجوب ساقط ہوجاتا ہے۔ |
مثلًا کوئی مسلمان نہیں جانتا کہ ناحق قتل یاغارت مسلم حرام وموجب عذاب نار ہے،کون نہیں جانتاکہ اس میں کسی طرح کی اعانت مطلقًا حرام ومستوجب غضب جبارہے،کون نہیں جانتاکہ زناحرام ہے،کون نہیں جانتا کہ شراب پینا سخت خبیث کام ہے اور ہزاروں لاکھوں اس کے مرتکب ہیں،پھر کبھی نہ سنا ہوگا کہ علماء یاا ن کی تحریریں ہر چکلے ہر بھٹی کاگشت کریں اصلا ہر گز تمام جہان میں کوئی عالم بلکہ کوئی عاقل اس کا قائل نہیں،اورخود ان لیڈروں میں جو جامہ مولویت میں ہیں وہ بھی اس کے عامل نہیں،آخریہ اس لئے کہ وہ لوگ دانستہ مرتکب ہیں،اور مظنون نہیں کہ منع سے مانیں بلکہ شورش و شرکا احتمال بیشتر کا ایسی جگہ جب تغییر بالید مقدور نہیں تغییر باللسان کچھ ضرور نہیں،غیر ضروری اور اس پر طرہ یہ کہ نامفید ایسا شور مچانا اور بلاوجہ شرعی شورشوں کے لئے مفید سپر ہوجانا کون سی شریعت نے واجب مانا،ایسے ہی مواقع کے لئے ارشاد الہٰی ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع