30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
" یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآئِرُ ۙ﴿۹﴾ فَمَا لَہٗ مِنۡ قُوَّۃٍ وَّ لَا نَاصِرٍ ﴿ؕ۱۰﴾"[1] |
جس دن سب چھپی باتیں جانچ میں آئیں گی تو آدمی کو نہ کچھ زورہوگا نہ کوئی مددگار۔ |
ترک معاملت پر ایک نظر:
(۱۱)حضرات لیاڈر نے مسئلہ موالات میں سب سے بڑھ کر اودھم مچائی اوروں میں افراط یا تفریط ایك ہی پہلو پر گئے،اس میں دونوں کی رنگت رچائی،افراط وہ کہ نصارٰی سے نری معاملت بھی حرام قطعی،اور تفریط یہ کہ ہندوؤں سے اتحاد بلکہ ان کی غلامی فرض شرعی،پھر بھی ان کے اس افراط وتفریط میں اتنا فرق ہے کہ دوم نے بذاتہٖ دین کو برباد کردیا،اور اول پر عمل میں فی نفسہٖ ضرر اسلام نہ تھا،مباح کوکوئی حرام جان کر چھوڑے تو اس چھوڑ نے میں حرج نہیں کہ مباح ہی تھا نہ کہ واجب،ضلالت ہے اس اعتقاد تحریم میں،لیکن حرام قطعی فرض منانا ایمان وعمل دونوں کا تباہ کن ہوا اور اپنے ہر پہلو سے اسلام کا بربادکرنے والا،لہذا اول سے بحث ضرور نہ تھی حکم بتادیا معاندوں کا عناد ان کے ساتھ ہے لیکن عملی حیثیت سے بھی اس خصوص میں مسلمانو ں کو بہت ضرر پہنچتے دکھائی دیتے ہیں سخت مشکلات کا سامنا ہے جن کاحل ان بزعم خود گہری نگاہ والے انجام شناس لیا ڈر الناس نے کچھ سوچ رکھا ہوگا،نظر بعادات و حالات کسی طرح عقل باور نہیں کرتی کہ ان کی چیخ پکار سے تمام ہندو سند وبنگال وبرہما وافریقہ و جاوہ حتی کہ عدن تك کے مسلمان سب نوکریاں،ملازمتیں،زمینداریاں،تجارتیں یکلخت چھوڑدیں،یہ شورشیں تو دو دن سے ہیں صدہا عــــــہ حرام نوکریاں پہلے ہی سے کررہے ہیں وہ تو چھوریں نہیں مباح نوکریاں اور
عــــــہ:مثلا حظر کی نوکری اعلاء کلمۃ اﷲ کے سو ا کسی مسلمان بادشاہ کی بھی جائز نہیں،یونہی خلاف ماانزل اﷲ حکم کرنے کی،یونہی جس میں سودکالینا دینا یاحساب کرناہو یا دستاویز سود کا کاتب یا شاہد بننا پڑے،بالجملہ حرام کام یا خود اعانت حرام کی ملازمت کی کہ اسلامی سلطنت وریاست کی بھی حرام ہے اور بلا ملازمت ایسے کاموں کا انجام دینا اور زیادہ شرع پر اُجرت،یہی حال کالجوں کی ملازمت اور ان کے تعلیم و تعلم کاہے،جہاں تعلیم مخالف شرع واسلام ہواگرچہ اسلامی کہلائے تعلم حرام،اور اس کی کسی طرح امداد حرام مگر جو دین رکھنے والا تعلیم دینیات پر یوں رہے کہ طلبہ کے عقائد کی حفاظت کرے ضلالتوں کا بطلان انھیں بتایا کرے وہ بازار میں ذکر الہٰی کرنے والے سے بھی زائد ہوگا جسے حدیث نے فرمایا مردوں میں زندوں کی طرح ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع