30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دربارہ مساجد لیڈران کا پیش کردہ شاہجہانپوری فتویٰ خود انہیں پر رد ہے:
سابعا:ائمہ دین نے صاف تصریحیں فرمائیں کہ کافر کا بطور استعلاء مسجد میں جانا مطلقًا حرام ہے،ہدایہ میں ہے:
|
الاٰیۃ محمولۃ علی الحضور استیلاء واستعلاء[1]۔ |
آیت اس پر محمول کی گئی ہے کہ وہ غلبہ وبلندی کے طوپر نہ آئیں۔ |
کافی امام نسفی میں ہے:
|
الاٰیۃ محمولۃ علی منعہم ان یدخلوھا مستولین وعلی اھل اسلام مستعلین [2]۔ |
آیت کے یہ معنی قرار دئیے گئے ہیں کہ ان کے ایسے آنے سے منع کیا جاتا ہے کہ بطور غلبہ آئیں اور مسلمانوں پر بلند ہوں۔ |
مگر ہدایہ وکافی کا ان لوگوں کے سامنے ذکر کیا جو قرآن عظیم کے نصوص قاہرہ نہیں سنتے،ہاں یہ کہئے کہ اگر حق مانیں تولیڈران کی خوبی قسمت ورنہ سخت نصیبوں کی شامت کہ خود لیڈری شائع کردہ فتوے نے بحوالہ ردالمحتار یہی عبارت ہدایہ نقل کردی کہ قرآن عظیم نے مشرك کا بطور استعلاء مسجد میں آناحرام فرمایا ہے،ہمارے دوست مفتی صاحب نے یہ دوسرا متلمس کا صحیفہ مروانی خط کی طرح ان کے ہاتھ میں دے دیا،مروانی خط ان کے ہاتھ تھا اور متلمس کا صحیفہ بند،ان کے ہاتھ میں کھلا ہوافتوی دے دیا اور ان کو اپنی موت نہ سوجھی اسے شائع کراتے عوام کو بہلاتے بھلاتے ہیں۔
مفتی کو ہدایت:
ہاں اتنی شکایت دوستانہ مفتی صاحب سے بھی ہے کہ ذمی کا حکم حربیوں یا کتابی یا مشرکوں پر ڈھالنا درکنار صورت استعلاء اگرمعلوم تھی کہ طشت از بام ہے تو اسے جانتے ہوئے باطل پرستوں کے ہاتھ میں فتوٰی دینا نہ چاہئے تھا جس سے وہ عوام کوبہکائیں اوراپنے حرام قطعی بلکہ اس سے بھی اشد کوحلال کردکھلائیں،پھر عجب یہ کہ بیان حکم میں عدم استعلاء کی قید رہ جانے نے مطلقًا جواز کی سنائی اگرچہ عبارت کتاب سے اطلاق پر آئی کتاب کی عربی عبارت عوام کیا سمجھیں انھیں گمراہ کرلینے کی لیڈروں نے راہ پائی نسأل اﷲ العفووالعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع