30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیڈران محض اغوا کے لئے مسئلہ دخول مساجد کا نام لیتے ہیں انہوں نے جو کیا بالاجماع حرام قطعی ہے:
سادسا: ان باتوں کا ان سے کیا کہنا جس پر حبك الشیئ یعمی ویصم [1](تیرا کسی چیز سے محبت کرنااندھا اوربہرکردیتا ہے) کارنگ پھر گیا سب جانے دو خدا کو بھی منہ دکھانا ہے یاہمیشہ مشرکین ہی کی چھاؤں میں رہنا ہے جواز تھا تو یوں کوئی کافر دبالچا،ذلیل وخوار مثلا اسلام لانے یا اسلامی تبلیغ سننے یا اسلامی حکم لینے کے لئے مسجدمیں آئے یا اس کی اجازت تھی کہ خود سرمشرکوں نجس پرستوں کو مسلمانوں کو واعظ بناکر مسجد میں لے جاؤ اسے مسند مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر بٹھاؤ مسلمانوں کو نیچا کھڑا کرکے اس کا واعظ بناؤ،کیا اس کے جواز کی کوئی حدیث یاکوئی فقہی روایت تمھیں مل سکتی ہے حاشا ثم حاشا ﷲ انصاف! کیا یہ اﷲ ورسول سے آگے بڑھنا شرع مطہر پر افتراء گھڑنا احکام الہٰی دانستہ بدلنا سؤرکو بکری بتاکر نگلنا نہ ہوگا۔ابونعیم حلیۃ الاولیاء میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہماسے روایت کرتے ہیں:
|
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان یصافح المشرکون اویکنوا اویرجب بہم [2]۔ |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ مشرکوں سے مصافحہ کیا جائے یا انھیں کنیت سے یادکریں یاآتے وقت مرحبا کہیں۔ |
یہ ادنٰی درجہ تکریم کا ہے کہ نام لے کر نہ پکارا،فلاں کا باپ کہا یاآتے وقت جگہ دینے کو آئیے کہا اﷲ اکبر حدیث اس سے بھی منع فرماتی ہے اورائمہ دین ذمی کافر کی نسبت وہ احکام تحقیر وتذلیل فرماچکے جن کا نمونہ ابھی گزرا کہ اسے محرر بنانا حرام کوئی کام ایسا سپرد کرنا جس سے مسلمانوں میں اس کی بڑائی ہو حرام اس کی تعظیم حرام،مسلمان کھڑا ہو تو اسے بیٹھنے کی اجازت نہیں،بیماری وغیرہ ناچاری کے باعث سواری پر ہو تو جہاں مسلمانوں کا مجمع آئے فورا اترپڑے۔
بدایونی لیڈر بننے والے اپنے حق میں احکام ائمہ کرام دیکھیں:
حتی کہ فتاوٰی ظہیریہ و اشباہ والنظائر وتنویر الابصار ودرمختار وغیرہامعتمدات اسفار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع