30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہی کہہ سکتے ہیں کہ ذمی وحربی برابر ہیں یعنی مستامن کہ اس کے لئے بھی ایك وقت تك ذمہ ہے بالجملہ جوازخاص ذمی کے لئے تھا اوریہ حربی لے دوڑے۔
ثانیا یہاں بھی امام بدرالدین محمود عینی وغیرہ اکابر کی روایت یہ ہے کہ ہمارے امام مذہب سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مذہب میں ذمیوں میں جواز صرف کتابی کے لئے ہے یہ مشرك حربی لے دوڑے۔ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں ہے:
|
قال ابوحنیفۃ یجوز الکتابی دون غیرہ واحتج بمارواہ احمد فی مسندہ بسند عــــہ |
امام ابوحنیفہ نے فرمایامسجد میں کتابی(ذمی)کا آنا جائزہے اور کفار کا نہیں اور امام اس پر اس |
|
عــــہ:قول الامام العینی بسند جید اقول: ای علی اصولنا و مالنا ان نترك اصولنا الی اصول المحدثین فضلاعن قول عالم متاخر شافعی فلا علیك مما فی التقریب وذٰلك ان مخرجہ اشعث بن سوار عن الحسن عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ واشعث من شیوخ شعبۃ و الثوری ویزید بن ھارون وغیرھم من الاجلاء وانتفاء شعبۃ فی من یأخذ منہ معلوم قال الذھبی وحدث من اشعث لجلالتہ من شیوخ ابواسحٰق السبیعی [1]اھ وقد قال سفین اشعث اثبت من مجالدوقال ابن مہدی ھوارفع من مجالد ومجالد من رجال صحیح مسلم وقال ابن معین اشعث احب الی من |
امام عینی کا قول جید سندسے اقول:(میں کہتاہوں)کہ یہ سند ہمارے قاعدہ پر جید ہے اور ہم محدثین کے اصول کی خاطر اپنے اصول نہ چھوڑیں گے چہ جائیکہ ایك متاخر شافعی عالم کے قول کی خاطر چھوڑیں تو تقریب میں مذکور بیان تمھارے خلاف نہیں ہے یہ اس لئے کہ حضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بواسطہ حسن اس حدیث کی تخریج کرنے والے اشعث بن سوارہیں جبکہ اشعث، شعبہ،ثوری،یزید بن ہارون وغیرہم کے اکابرشیوخ میں سے ہیں اور شعبہ کا انتخاب ان میں جن سے اس نے روایت کی ہے وہ معروف ہے ذہبی نے کہا اشعث کی جلالت شان کی وجہ سے اس کے شیوخ میں سے ابو اسحٰق سبیعی نے اس سے حدیث روایت کی ہے اھ۔ اور سفیان نے کہا کہ اشعث مجالد کی نسبت زیادہ قوی ہے،اور ابن مہدی نے کہا وہ مجالد سے بلند ترین ہے جبکہ مجالد صحیح مسلم کے راویوں میں شمار ہیں اور (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع