30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ امام اعظم نے فرمایا رضی اﷲ تعالٰی عنہم ذمیوں کا مسجد حرام میں جانا مضائقہ نہیں"ذمی مراد ہو اور کافر سے تعبیر کریں کیا بعید ہے ذمی بھی کافر ہی ہے اطلاق کی سندیں اوپر گزریں کہ"اراد بالکافر الذمی"کافر سے ذمی مراد ہے۔یونہی مستامن مرادہو اور حربی سے تعبیر کریں کیا عجب ہے مستامن بھی حربی ہے اطلاق کی سند محیط وعالمگیریہ سے گزری کہ"اراد بالمحارب المستامن"حربی سے مستامن مرادہے۔مگر ذمی بولیں اور اس سے حربی بھی مراد ہو یہ کس طرح منقول کہ اب تخصیص ذمی محض بے معنی وموجوب غلط فہمی ہوگی کہ حربی ہر گز معنی ذمی میں نہیں،لاجرم علامہ سید احمد طحطاوی وعلامہ سید محمد محشیان درمختارکو اس میں تردد ہوا کہ مستامن کے لئے بھی جواز ہے یانہیں پھر اس استدلال علماء بالحدیث سے سند لاکر بھی جزم نہ کیا اور کتب سے تحقیق کرنے کاحکم دیا دونوں کتابوں کی عبارت یہ ہے:
|
انظر ھل المستامن ورسول اھل الحرب مثلہ و مقتضی استدلالہم علی الجواز بانزال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وفد ثقیف فی المسجد جوازہ ویحرر [1]۔ |
غور طلب ہے کہ مستامن اور حربیوں کا ایلچی بھی کہ وہ بھی مستامن ہوتاہے اس حکم میں ذمیوں کے مثل ہے یا نہیں۔ علماء کہ جواز پر اس سے دلیل لائے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے وفد ثقیف کو مسجد شریف میں اتارا یہ مستامن کے لئے جواز چاہتاہے بات ہنوز تحقیق طلب ہے۔ |
اقول: مستامن کے لئے خود قرآن عظیم سے اشارہ نکال سکتے ہیں کہ:
|
وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیۡنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللہِ ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاۡمَنَہٗ ؕ"[2]۔ |
اے محبوب! اگر کوئی مشرك تم سے پناہ چاہے تو اسے پناہ دو کہ اﷲ کاکلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچادو۔ |
حضور انور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے کوئی مجلس نہ تھی سوامسجد کریم کے ولہذا وفود یہیں حاضر ہوتے اور اس میں متون کا خلاف نہیں،ہدایہ سے گزرا کہ مستامن جب تك دارالاسلام میں ہے بمنزلہ ذمی ہے ذمہ مؤیدہ وموقتہ دونوں طرح ہوتے ہیں، کافی امام نسفی فصل امان میں ہے:
|
المراد بالذمۃ العہد مؤقتا کان اومؤبدا وذٰلك الامان وعقد الذمۃ [3]۔ |
ذمہ سے عہد مراد ہے ایك میعادمعین تك ہو یاہمیشہ کے لئے،یہ امان وعقدذمہ ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع