30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یعنی ذمی کافر کو محرر بنانا یااور کوئی عمل ایسا سپر د کرنا جس سے مسلمانوں میں اس کی بڑائی ہوجائز نہیں،اس کا پوار بیان فتح القدیر میں ہے،حاوی میں ہے وہ مسلمان کے ساتھ ہر معاملہ میں دبا ہوا ذلیل رہے تو جب تك ا س کے پاس کوئی مسلمان کھڑا ہواُسے بیٹھنے نہ دیں گے،یہ بحرالرائق میں ہے،اور اس کی تعظیم حرام ہے۔ہدایہ میں ہے:
|
قالوا الاحق ان لایترکوا ان یرکبوا الا لضرورۃ واذا رکبوا للضرورۃ فلینزلوا فی مجامع المسلمین [1]۔ |
علماء نے فرمایا:سز اوارتریہ ہے کہ انھیں سوار ہونے ہی نہ دیں مگر(مرض وغیرہ کی)ناچاری سے پھر جب مجبوری کو سوار ہو تو ضرور ہے کہ مسلمانوں کے مجمع میں اترلیں۔ |
بے تعظیمی کے ساتھ بھی کافر سے استعانت صرف وقت حاجت جائز ہے:
سوم بے حاجت اس سے استعانت کرنا یہ بھی ناجائز ہے،خود فتوائے شائع کردہ لیڈران میں درمختار سے ہے:
|
مفادہ جوا ز الاستعانۃ بالکافر عند الحاجۃ [2]۔ |
اس عبارت سے سمجھاگیا کہ حاجت کے وقت کافر(ذمی)سے استعانت جائز ہے۔ |
اسی میں ردالمحتار سے ہے:
|
اما بدونہا فلا لانہ لایؤمن غدرہ [3]۔ |
حاجت نہ ہوتو جائز نہیں کہ کچھ اطمینان نہیں کہ وہ بدعہدی نہ کرے گا۔ |
کافر سے صرف اس صورت کی استعانت جائز ہے:
چہارم اب ایك صورت یہ رہی کہ۱ دبے ہوئے مقہور کافر سے ۲بشرط حاجت ایسی استعانت جس میں نہ ۳اسے راز دار ودخیل کاربنانا ہو نہ ۴کسی مسلمان پر اس کا استعلاء ہو یہ ہے وہ جس کی ہمارے علماء اور امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے رخصت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع