30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اذا اھانہم اﷲ،ولااعزھم اذا اذلہم اﷲ ولاادنیہم اذا ابعد ھم اﷲ،قلت انہ لایتم امر البصرۃ الا بہ فقال مات النصرانی والسلام یعنی ھب انہ مات فما تصنع بعدہ فما تعملہ بعد موتہ فاعلمہ الاٰن واستغن عنہ بغیرہ من المسلمین [1]۔ |
کافروں کو گرامی نہ کرو ں گا جبکہ انھیں اﷲ نے خوارکیا نہ انھیں عزت دوں گا جبکہ اﷲ نے انھیں ذلیل کیا نہ ان کو قُرب دوں گاجبکہ اﷲ نے انھیں دور کیا،میں نے عرض کی بصرہ کا کام بے اس کے پورانہ ہوگا۔فرمایا مرگیا نصرانی والسلام یعنی فرض کرلو کہ وہ مرگیا تو اس کے بعد کیا کرو گے جو جب کروگے اب کرو اور کسی مسلمان کو مقرر کرکے اس سے بے پروا ہوجاؤ۔ |
کافر کی تعظیم حرام ہے:
دوم اسے بعض مسلمانوں پر کوئی عہدہ ومنصب دینا جس میں مسلم پر اس کا استعلاء ہو مثلا مسلمان فوج کے کسی دستے کا افسر بنانا یہ بھی حرام ہے،ابھی امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا ارشاد سن چکے کہ اﷲ نے انھیں خوار کیا میں گرامی نہ کروں گا اﷲ نے انھیں ذلت دی میں عزت نہ دوں گا،کتب حدیث میں یوں ہے کہ جب ابوموسٰی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اسے محرری پر مقرر کیا امیر المومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے انھیں فرمان میں لکھا:
|
لیس لنا ان نأتمنہم وقد خونہم اﷲ ولا ان نرفعہم وقد وضعہم اﷲ ولاان نعزوھم وقد امرنا بان یعلم الجزیۃ عن یدوھم صاغرون[2]۔ |
ہمیں روانہیں کہ کافروں کو امین بنائیں حالانکہ اﷲ تعالٰی انھیں خائن بتاتاہے یا ہم انھیں رفعت دیں حالانکہ اﷲ سبحٰنہ نے انھیں پستی دی،یاانھیں عزت دیں حالانکہ ہمیں حکم ہے کہ کافر ذلت وخواری کے ساتھ اپنے ہاتھ سے جزیہ پیش کریں۔ |
درمختارمیں ہے:
یمنع من استکتاب ومباشرۃ یکون بھا معظما عند المسلمین وتمامہ فی الفتح وفی الحاوی ینبغی ان یلازم الصغار بینہ وبین المسلم،فی کل شیئ وعلیہ فیمنع من القعود حال قیام المسلم عندہ بحر،ویحرم تعظیمہ [3]۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع