30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور غزوہ حنین میں تو صفوان جیسے ستر۷۰ اسی۸۰ بھی مان لیجئے تو کچھ نہ تھے کہ الہٰی لشکر بارہ ہزار تھا جس کی کثر ت کا ذکر خود قرآن عظیم میں ہے اسی طرف اشارہ ہے کہ ہمارے علماء ان مسائل میں ذمی وکافر بصیغہ مفرد لکھتے ہیں نہ بصیغہ جمع۔
استخدام کی چار صورتیں اور ان کے احکام کافر کو رازدار بنانا مطلقًا حرام ہے:
اب چار۴صورتیں ہیں:
اول اس سے ایسی استعانت جس میں وہ ہمارا راز دار ودخیل کار بنے یہ مطلقًاحرام ہے جس کے لئے پہلی آیہ کریمہ بس ہے،نیز فرماتاہے جل وعلا:
|
" اَمْ حَسِبْتُمْ اَنۡ تُتْرَکُوۡا وَلَمَّا یَعْلَمِ اللہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمْ وَلَمْ یَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ وَلَارَسُوۡلِہٖ وَلَا الْمُؤْمِنِیۡنَ وَلِیۡجَۃً ؕ وَاللہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ ﴿۱۶﴾٪"[1] |
کیا اس گھمنڈ میں ہو کہ یونہی چھوڑ دئے جاؤ گے اور ابھی وہ لوگ علانیہ ظاہر نہ ہوئے جو تم میں سے جہاد کریں اور اﷲ ورسول ومسلمین کے سوا کسی کو اپنا راز دار ودخیل کار بنائیں اور اﷲ تعالٰی تمھارے کاموں سے خبردار ہے۔ |
کافروں کو محرری پر نوکر رکھنے کی ممانعت:
ولہذا حدیث چہارم میں ان سے مشورہ لینا ناجائزفرمایا،تفسیر کبیرمیں کریمہ اولٰی کے تحت میں ہے:
ان المسلمین کانوا یشاورونہم فی امورھم ویؤانسونہم لما کان بینہم من الرضاع
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) حرام بن سعد بن محیصہ قال خرج رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعشرۃ من یھود المدینۃ غزابہم الی خیبر [2] ۱۲ منہ غفرلہ |
حرام بن سعد بن محیصہ سے راوی کہ انھوں نے کہا کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام مدینہ کے دس یہودکو غزوہ خیبر میں ہمراہ لے گئے ۱۲ منہ غفرلہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع