30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کافر کو کتّا بنا کر استعانت جائز ہے جب وہ ہمارے ہاتھ میں کتے کی طرح مسخر ہو:
ارشاد ہوا:لان قتالہم بھذہ الصفۃ لاعزاز الدین والاستعانۃ علیہم باھل
الشرك کالاستعانۃ بالکلاب [1]۔
دو ورق پہلے فرمایا:والاستعانۃ باھل الذمۃ کالاستعانۃ
بالکلاب [2]۔
(یعنی اس لیے کہ جب وہ اس حالت پر ہوں تو ان کا لڑنا ہمارے ہی دین کے اعزاز کو ہوگا اورحربیوں پر ان ذمی مشرکوں سے استعانت ایسی ہوگی جیسے شکار میں کتوں سے مدد لیتے ہیں دوسرے یہ کہ وہ ہمارے ہاتھ میں کتوں کی طرح مسخر ہوں کہ ان کا فعل ہمارے ہی لئے ہو ہمارے ہی دین کے اعزاز کے واسطے ہو)
کتے سے شکار میں استعانت کب جائز ہوتی ہے جبکہ وہ وقت شکار سارا کام ہمارے ہی لئے کرے اس میں سے اپنے واسطے کچھ نہ کرے اگر شکار مارا اور ماشہ بھراس کا گوشت کھالیا شکار حرام ہے،تو استخدام بتایا اور وہ بھی سب سے ذلیل تر یعنی جیسے کتے سے خدمت لیتے ہیں اور شرط فرمادی کہ وہ خود سری سے یکسر نکل کر محض ہمارے لئے آلہ بن گئے ہوں یہ نہ ہوگا مگراسی صورت میں کہ ہم نے منقح کی وﷲ الحمد۔
ذلیل وقلیل کافروں سے استعانت کی اجازت ہوگی نہ کہ انبوہ کثیر سے:
اقول: اور اس کے لئے ضرور ہے کہ وہ معدودے چند ذلیل قلیل ہوں کہ بڑا گروہ ہوا تو ممکن کہ میدان میں پہنچ کر کافروں کا لشکردیکھ کر شرارت پر آئے اور پھن دکھائے ممکن کہ یہی حکمت ہو کہ روز احد چھ سو یہود کو واپس فرمادیا کہ یہ بڑا جتھا ہوا خصوصا اس حالت میں کہ مسلمان صرف سات سو۷۰۰ اور مغلطائی کی روایت میں چھ ہی سو تھے اور غزوہ خیبر میں حسب عــــہ روایت واقدی صرف دس یہود کو ہمرا ہی کا حکم فرمایا کہ مسلمان ایك ہزار چار سو۱۴۰۰ تھے
|
عــــہ:اخرج الواقدی فی مغازیہ عن |
واقدی نے اپنے مغازی میں(باقی برصفحہ آیندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع